صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 203
صحیح مسلم جلد اول 203 كتاب الايمان بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ میں خواتم ہوں گے۔* (جس کی وجہ سے ) اہلِ جنت إِلَى آخِرِهِ وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا انہیں پہچان لیں گے۔یہ وہ ہیں جنہیں اللہ نے آزاد کر کے بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو یا بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے کی ہو جنت میں داخل کر دیا ہے۔پھر وہ فرمائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ۔جو بھی تم دیکھو وہ تمہارے لئے ہے۔تب وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ ( کچھ ) عطاء فرمایا ہے جو تو نے تمام جہانوں میں سے کسی کو بھی عطاء نہیں فرمایا۔اس پر وہ فرمائے گا تمہارے لئے میرے پاس اس سے زیادہ بہتر ہے۔تب وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب! تیرے پاس کونسی چیز اس سے بھی افضل ہے؟ وہ فرمائے گا میری رضا۔پس اس کے بعد اب میں تم پر کبھی ناراض نہ ہوں گا۔حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب دن بالکل صاف ہو کچھ دشواری ہوتی ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔(راوی کہتے ہیں ) پھر میں نے آخر تک پوری روایت بیان کی اور وہ حفص بن میسرہ کی روایت کے مطابق تھی۔انہوں نے ان کے قول بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمَلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ “ کے بعد مزید کہا: فَيُقَالُ لَهُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ : خواتم سے مراد کسی قسم کے زیور ہیں جو شناختی نشان کے طور پر ہیں۔