صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 199
صحیح مسلم جلد اول 199 کتاب الایمان يَا رَبَّنَا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا پس ہمیں پانی پلا۔فرمایا پھر ان کو اشارہ کیا جائے گا کہ تم إِلَيْهِمْ وَلَمْ تُصَاحِبُهُمْ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ (پانی کی طرف) کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں آگ کی فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بالله منكَ لَا نُشرك بالله طرف اکٹھا کیا جائے گا گویا کہ وہ سراب ہے۔اس کا شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَكَادُ ایک حصہ دوسرے حصے کو توڑ رہا ہوگا پھر وہ آگ میں أَنْ يَنْقَلبَ فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ گرنے لگیں گے یہانتک کہ نیک و بد میں سے وہ باقی رہ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُكْشَفُ عَنْ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے۔تمام جہانوں کا سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لله مِنْ تلْقَاء رب سبحانہ وتعالیٰ اس سے کچھ اس جیسی صورت میں آئے نَفْسه إِلَّا أَذنَ اللَّهُ لَهُ بالسجود وَلَا يَبْقَى مَنْ گا جس میں انہوں نے اس کو دیکھا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ كَانَ يَسْجُدُ اتَّقَاء وَرِيَاء إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ فرمائے گا تم کس کے انتظار میں ہو؟ ہر گروہ اس کے ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ پیچھے جائے گا جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔وہ کہیں گے حَرَّ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ وَقَدْ اے ہمارے رب! دنیا میں ہم لوگوں سے الگ رہے تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ جبکہ ہم ان کے سب سے زیادہ محتاج تھے۔اور ہم نے فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا ثُمَّ ان کی مصاحبت اختیار نہ کی۔پھر وہ کہے گا : میں تمہارا يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ رب ہوں۔پھر وہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے : ہم تجھ سے الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلّمْ سَلْمُ قِيلَ یا اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ہم اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجِسْرُ قَالَ دَحْضٌ مَزِلَّةٌ نہیں ٹھہراتے یہانتک کہ قریب ہے کہ اُن میں سے فِيهِ خَطَاطِيفُ وَكَذَلِيبُ وَحَسَكَ تَكُونُ بعض لوٹ جائیں۔پھر وہ کہے گا : کیا تمہارے اور اس بِنَجْدِ فِيهَا شُوَيْكَةٌ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ فَيَمُرُّ کے درمیان کوئی نشانی ہے؟ جس کے ذریعہ تم اس کو الْمُؤْمِنُونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ وَكَالْبَرْقِ پیچان لو۔وہ کہیں گے : ہاں۔اس وقت نور کی تجلی ہوگی پیر وَكَالرِّيحِ وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ جو اپنے نفس کی خاطر اللہ کو سجدہ کرتا تھا وہ باقی ہ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ یہ ہے ” پنڈلی سے پردہ اٹھایا جائے گا یہ مجازی کلام ہے جس کی تشریح اس حدیث میں ہے فَيَكْشِفُ لَهُمَ الْحِجَابَ فَيَنْظُرُونَ إِلَى اللهِ تَعَالَى فَيَخِرُّونَ لَهُ سُجَّدًا کہ مومنوں کے لئے قیامت کے دن وہ پردہ اٹھا دے گا اور وہ الہ تعالی کو دیکھیں گے اور اس کے لئے سجدہ میں گر جائیں گے۔(تفسیر قرطبی سورۃ القلم )