صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 187
صحیح مسلم جلد اول 187 کتاب الایمان نے فرمایا کہ اگر محمد ﷺ نے اس میں سے جو آپ پر اُتارا گیا کچھ چھپانا ہوتا تو ضرور یہ آیت چھپاتے إِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكُ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ﴾ (الاحزاب : 38 ) ( ترجمہ ) اور جب تو اسے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے انعام کیا اور تو نے بھی اس پر انعام کیا کہ اپنی بیوی کو رو کے رکھ (یعنی طلاق نہ دے) اور اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور تو اپنے نفس میں وہ بات چھپارہا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خائف تھا اور اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے۔مسروق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! جو تم نے کہا ہے اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں آگے ساری حدیث بیان کی اور داؤد کی روایت زیادہ کمل اور لمبی ہے۔252 {۔۔۔و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو :252 مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں أَسَامَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوق قَالَ قُلْتُ لعَائِشَةَ فَأَيْنَ کیا مطلب ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی یعنی پھر وہ نزدیک ہوا قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ پھر وہ نیچے اتر آیا۔پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى قَالَتْ إِنَّمَا ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر پس اس نے اپنے بندے ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کی طرف وہ وحی کیا جو بھی وحی کیا (النجم : 9 تا 11) یعنی اس بات کا ڈر تھا کہ لوگوں کو ابتلاء نہ آئے۔