صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 186
صحیح مسلم جلد اول 186 کتاب الایمان يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ پاسکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ قَالَتْ وَمَنْ باریک بین اور ہمیشہ خبر رکھنے والا ہے اور کیا تم نے سنا زَعَمَ أَنَّهُ يُحْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ يُكَلِّمُهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا ﴾ (الشورى :52) یعنی: اور فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ و کسی انسان کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے سے یا کوئی پیغام حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ رساں بھیجے جو اس کے اذن سے جو وہ چاہے وحی الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حديث ابن عُلَيَّةَ وَزَادَ قَالَتْ وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا صل الله کرے یقیناً وہ بہت بلندشان (اور) حکمت والا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس نے گمان کیا کہ رسول اللہ نے کتاب اللہ میں سے کچھ چھپایا ہے تو اس ممَّا أُنزِلَ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا جبکہ اللہ فرماتا ہے للَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلْغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ﴾ (المائده: 68) نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ یعنی: اے رسول ! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے رب أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے اور اگر تو نے حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقِ ایسا نہ کیا تو گویا تو نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّی اور ( حضرت عائشہؓ ) نے کہا جس نے گمان کیا کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ الله آپ وہ بتا دیتے تھے جو کل ہوگا اس نے اللہ پر بہت لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لَمَا قُلْتَ وَسَاقَ الْحَدیث بڑا جھوٹ بولا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قل لا بِقِصَّتِهِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمْ وَأَطْوَلُ يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ﴾ (النمل: 66 ) (ترجمہ) تو کہہ دے کہ کوئی بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے غیب کو نہیں جانتا مگر اللہ۔داؤد نے ہمیں اسی اسناد سے ابن علیہ کی روائت بتائی۔مزید انہوں نے کہا کہ آپ (حضرت عائشہ)