صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 185
حیح مسلم جلد اول 185 كتاب الايمان الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقِ قَالَ كُنتُ مُتَكَنَّا عِنْدَ ابو عائشہ تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلَاثَ مَنْ تَكَلَّمَ ایک بات بھی کہی تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ باندھا میں نے پوچھا وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنْ مُحَمَّدًا نے کہا کہ جس نے کہا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔وہ عَلَى اللَّه الْفِرْيَةَ قَالَ وَكُنتُ مُتَكَناً کہتے ہیں میں سہارا لئے ہوئے تھا میں بیٹھ گیا میں فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي نے کہا اے ام المؤمنین! مجھے کچھ موقعہ دیں اور وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ میرے بارہ میں جلدی سے کام نہ لیں۔کیا اللہ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزَّلَةً أُخْرَى عزوجل نے نہیں فرمایا وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذه الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ الْمُبِينِ ﴾ (التکویر :24) (ترجمہ) اور وہ ضرور رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اسے روشن افق پر دیکھ چکا ہے اور ﴿ وَلَقَدْ رَآهُ نَزَلَةٌ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي أُخرى ﴾ (النجم :14 ) یعنی: وہ اسے ایک اور کیفیت خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ میں دیکھ چکا ہے۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس مُنْهَبِطَا مِنَ السَّمَاءِ سَادًا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ امت میں سب سے پہلے میں نے اس بارہ میں صلى الله السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَتْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رسول الله ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ تو اللَّهَ يَقُولُ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ صرف جبرائیل ہیں جنہیں میں نے ان کی اس الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ صورت پر جس پر ان کی تخلیق ہوئی نہیں دیکھا سوائے أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ ان دو مرتبہ کے۔میں نے ان کو آسمان سے اتر تے وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ ہوئے دیکھا۔ان کے عظیم وجود نے آسمان وزمین کا رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ درمیانی حصہ بھر دیا تھا۔انہوں نے کہا کیا تم نے سنا حَكِيمٌ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنْ رَسُولَ الله نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كتاب وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ الْخَبِيرُ ﴾ (الانعام:104 ) یعنی: آنکھیں اس کو نہیں