صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 180 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 180

صحیح مسلم جلد اول 180 كتاب الإيمان رَأَيْتُ بهِ ابْنُ قَطَن فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا جو ھنگریالے بالوں والا اور دائیں آنکھ سے کانا تھا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ اور جن کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ ابن قطن سے مشابہت رکھتا تھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے۔241 (170) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيد حَدَّثَنَا :241 حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ الله لَيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے میری بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابر بن عبد الله أَنَّ تکذیب کی تو میں حجر * میں کھڑا تھا اور اللہ نے مجھے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا بيت المقدس میرے سامنے کر دیا۔میں ان کو اس کی كَذَّبَتِي قُرَيْشَ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ نشانیاں بتانے لگا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔لي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفَقْتُ أَحْبَرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ 242 {171} حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :242 سالم بن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب اپنے والد حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الله رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں سویا ہوا تھا بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ایک آدمی گندم گوں سیدھے بالوں والا دو آدمیوں کے بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا درمیان ہے اور اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے یا بہہ رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رہا ہے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ مسیح رَأْسُهُ مَاءً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً قُلْتُ مَنْ هَذَا ابن مریم ہے۔پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفتُ فَإِذَا سرخ رنگ کا جسیم آدمی ہے جو گھنگریالے بالوں والا ، رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْس أَعْوَرُ ایک آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پھولے ہوئے الْعَيْنِ كَأَنَّ عَيْنَهُ عَنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا انگور کی طرح ہے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ حجر سے مراد حطیم ہے یعنی بیت اللہ کا وہ حصہ جواب مستقف نہیں۔