صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 173
صحیح مسلم جلد اول 173 كتاب الايمان مَالك بن صَعْصَعَةَ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى لوٹ کر نہیں آتے۔یہ ان کی اس ذمہ داری کا اختتام اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فيه ہے۔پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔جن میں فَأَتيتُ بطَسْت مِنْ ذَهَب مُمْتَلىَ حَكَمَةً سے ایک شراب ، دوسرا دودھ کا تھا۔پس دونوں وَإِيْمَانًا فَشَقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقَ الْبَطْنِ میرے سامنے پیش کئے گئے۔میں نے دودھ پچن لیا فَغْسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانا تو کہا گیا کہ آپ نے ٹھیک کیا ہے۔اللہ آپ کی امت کو آپ کے ذریعہ فطرت پر رکھے گا۔پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔پھر انہوں نے حدیث کے آخر تک کا قصہ بیان کیا۔حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : آگے راوی نے وہی واقعہ بیان کیا اور مزید یہ بیان کیا ( آپ نے فرمایا ) کہ میرے پاس ایک سونے کی طشتری لائی گئی جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھی۔پھر میری گردن سے پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا۔پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔231 {165} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى 231 : قادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابو العالیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے تمہارے نبی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ﷺ کے چچا کے بیٹے یعنی ابن عباس نے بتایا کہ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَة يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ رسول الله ﷺ کو جب اسراء کرایا گیا تو آپ نے نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ ذکر فرمایا کہ موسی" گندمی رنگ کے لمبے قد کے آدمی عَبَّاسٍ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تھے گویا کہ وہ شَنُوءَ ہ (قبیلہ ) کے آدمیوں میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ مُوسَی سے ہیں۔آپ نے فرمایا عیسی گھنگریالے بالوں آدَمُ طُوَالْ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَقَالَ والے میانہ قد تھے۔پھر آپ نے مالک (یعنی) جہنم