صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 171
صحیح مسلم جلد اول 171 کتاب الایمان أَحَدُ الثَّلَاثَة بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَتيتُ فَانطلق بی میں سے ایک دو مردوں کے درمیان ( یہ ہیں) وہ فَأُتِيتُ بِطَسْت مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا۔پھر میرے زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا قَالَ پاس سونے کی ایک طشتری لائی گئی جس میں زمزم کا قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَى پانی تھا۔پھر یہاں سے یہاں تک میرا سینہ کھولا گیا أَسْفَلِ بَطْنِهِ فَاسْتَخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَاءِ (قادہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا زَمْزَمَ ثُمَّ أُعيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا آپ کے وَحَكْمَةً ثُمَّ أُتيتُ بدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ پیٹ کے نیچے تک ) * پھر میرا دل باہر نکالا گیا ، پھر الْبُرَاقِ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور پھر اسے اپنی جگہ حَطْرُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحْمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ پر واپس رکھ دیا گیا۔پھر اسے ایمان اور حکمت سے الطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ لبریز کر دیا گیا۔اور میرے پاس ایک سفید جانور لایا جبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَنْ گیا جسے براق کہا جاتا تھا جو گدھے سے بڑا اور خچر هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ سے چھوٹا تھا۔اس کا قدم اپنی حد نظر تک پڑتا تھا۔پس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ مجھے اس پر سوار کرایا گیا۔پھر ہم چلے یہانتک کہ ورلے قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا به آسمان تک پہنچے تو جبرائیل ﷺ نے کھلوانا چاہا۔پوچھا وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ گیا کہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا جبرائیل۔پوچھا گیا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيث تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا محمد ﷺ۔کہا گیا بقصَّته وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے عِيسَى وَيَحْيَى عَلَيْهِمَا السَّلَام وَفِي الثَّالِثَةِ فرمایا کہ پھر اس نے ہمارے لئے ( دروازہ کھولا اور يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ کہا خوش آمدید! کیا ہی خوبصورت آمد ہے۔آپ نے هَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ فرمایا پھر ہم آدم ﷺ کے پاس آئے۔آگے سارا الطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ واقعہ سنایا۔راوی نے ذکر کیا کہ دوسرے آسمان پر فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ آپ عیسی ویسی علیہما السلام سے ملے اور تیسرے پر یہ فقرہ ایک تابعی قتادہ کی رائے ہے حدیث کا حصہ نہیں۔K۔