صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 170 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 170

صحیح مسلم جلد اول 170 كتاب الايمان آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی۔آپ نے فرمایا کہ پھر میں نے اپنے رب سے بات کی تو اس نے اس میں سے نصف کم کر دیں۔آپ فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰ" کے پاس گیا اور انہیں اس بارہ میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ پھر اپنے رب سے بات کرو کیونکہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھے گی۔آپ نے فرمایا کہ پھر میں اپنے رب سے بات کی تو ( اللہ نے ) فرمایا کہ یہ پانچ ہیں اور یہی پچاس ہیں۔میرے حضور بات تبدیل نہیں کی جاتی۔آپ نے فرمایا میں پھر موسیٰ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے بات کرو۔تب میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔آپ نے فرمایا پھر جبرائیل مجھے لے کر چل پڑے یہانتک کہ ہم سدرة المنتهى تک پہنچ گئے۔جسے کئی رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا (رنگ) ہیں۔فرمایا پھر مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔230 (164} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :230: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے راوی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدِ عَنْ قَتَادَةَ کہتے ہیں کہ غالباً انہوں نے اپنی قوم کے ایک شخص عَنْ أَنَسِ بْن مَالك لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ مَالك بن حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت کی۔انہوں صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ قَالَ نَبِيُّ الله نے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْت کے پاس نیند اور بیداری کے درمیان کی حالت میں بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْطَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ تھا کہ میں نے کسی کہنے والے کو سنا جو کہ رہا تھا تین