صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 166
صحیح مسلم جلد اول 166 كتاب الايمان أُتيتُ فَانْطَلَقُوا بي إِلَى زَمْزَمَ فَسُرِحَ عَنْ مُجھے اُتارا گیا۔صَدْرِي ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُنْزِلْتُ 228 {۔۔۔} حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ حَدَّثَنَا :228 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ عَنْ رسول الله ﷺ کے پاس جبرائیل لے آئے جبکہ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ آپ کو پکڑا اور لٹا دیا۔پھر دل کے قریب سے چاک وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْعَلْمَانِ فَأَخَذَهُ کیا اور دل کو نکالا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکال دیا فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبِ اور کہا آپ کی طرف سے شیطان کا یہ حصہ تھا پھر اس فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظِّ (دل) کوسونے کی ایک طشتری میں زمزم کے پانی الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْت مِنْ سے دھویا پھر اسے جوڑ دیا اور اسے دوبارہ اس کی جگہ ذَهَب بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي پر رکھ دیا۔بچے دوڑتے ہوئے آپ کی ماں یعنی آپ مَكَانَهُ وَجَاءَ الْعُلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي کی رضاعی والدہ کے پاس آئے اور کہا کہ محمد کو قتل ظرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ کر دیا گیا ہے۔جب وہ آپ کے پاس آئے اور آپ وَهُوَ مُنْتَقَعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِحْيَطَ فِي صَدْرِهِ حَدَّثَنَا هَارُونُ کا رنگ بدلا ہوا تھا۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میں بْنُ سَعيد الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ اس سلائی کا نشان آپ کے سینہ پر دیکھا کرتا تھا۔سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي عبد اللہ بن ابو میر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس شَرِيكَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ بن مالک کو کہتے ہوئے سنا۔وہ ہمیں بتاتے تھے کہ أَنَسَ بْنَ مَالِكَ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسرِيَ جس رات رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کی مسجد ( یعنی مسجد برَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حرام سے اسراء کرایا گیا جبکہ آپ مسجد حرام میں سو مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ رہے تھے اس وقت آپ کے پاس تین آدمی آئے اور يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یہ اس سے قبل کی بات ہے جب آپ کی طرف وحی کی وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصَّته نَحْوَ حَدیث ثابت گئی۔آگے ثابت بنانی کی طرح سارا واقعہ بیان کیا الْبُنَانِيِّ وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَرَ وَزَادَ وَنَقَصَ لیکن کچھ آگے پیچھے کر دیا اور کچھ کمی بیشی کر دی۔یہ رسول اللہ ملے کے بچپن کا واقعہ ہے جب آپ حضرت حلیمہ سعدیہ کی کفالت میں رہ رہے تھے۔