صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 165 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 165

صحیح مسلم جلد اول 165 کتاب الایمان میں پھر موسیٰ کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے مجھ سے پانچ کم کر دی ہیں۔انہوں نے کہا آپ کی امت اس کی ( بھی ) طاقت نہیں رکھے گی۔اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اس سے تخفیف چاہیں۔فرمایا پھر میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ اور موسیٰ کے درمیان آتا جاتا رہا۔یہانتک کہ اللہ نے فرمایا اے محمد ﷺ! ہر دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں۔ہر نماز کے لئے دس اجر ہیں۔پس یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں۔جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر اس نے وہ نیکی کر لی تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو اس کے لئے کچھ بھی نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس نے وہ (بدی) کر لی تو ایک بدی لکھی جائے گی۔فرمایا پھر میں نیچے اترا اور موسی مہینے تک پہنچ گیا اور انہیں اس بارہ میں بتایا تو انہوں نے کہا اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور اس سے تخفیف چاہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں اپنے رب کے پاس بار بار گیا ہوں اور اب مجھے اس سے شرم محسوس الله ہوتی ہے۔227 {۔۔۔} حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ 227 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ الْعَبْدِي حَدَّثَنَا بَهْرُ بْنُ أَسَد حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس (فرشتے ) بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِت عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ آئے۔پھر وہ مجھے زمزم کی طرف لے گئے اور میرا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سینہ کھولا گیا۔پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔پھر