صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 160
صحیح مسلم جلد اول 160 كتاب الإيمان الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ انہوں نے کہا: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ میں نے کہا: یا اِقْرَاْ أَوْ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ حضرت جابر کہنے لگے کہ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی آپ نے فرمایا کہ بِحِرَاءِ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جَوَارِي نَزَلْتُ میں حراء میں ایک مہینہ رہا جب میں نے اس پر اپنے فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُوديتُ فَنَظَرْتُ قیام کا عرصہ پورا کر لیا تو میں نیچے اترا اور وادی کے أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي نشیب میں پہنچا۔مجھے پکارا گیا چنانچہ میں نے اپنے فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِیتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ آگے اور پیچھے اور اپنے دائیں اور بائیں نظر ڈالی لیکن أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ میں نے کسی کو نہ دیکھا پھر مجھے پکارا گیا پھر میں نے عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاء يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ نظر ڈالی میں نے کسی کو نہ دیکھا پھر مجھے پکارا گیا تو السَّلَامِ فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ میں نے اپنا سر اُٹھایا تو دیکھا کہ وہ تخت پر فضا میں خديجَةَ فَقُلْتُ دَثْرُونِي فَدَبَّرُونِي فَصَبُّوا تھے یعنی جبرائیل علیہ السلام، مجھ پر شدید لرزہ طاری عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا ہوا، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔چنانچہ انہوں نے مجھے فَطَهِّرْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی بھی ڈالا۔اس وقت عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكَ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔( ترجمہ ): اے عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کپڑا اوڑھنے والے ! اُٹھ کھڑا ہو اور انتہاہ کر ، اور فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشِ بَيْنَ السَّمَاءِ اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تو وَالْأَرْضِ (انہیں) بہت پاک کر۔(المدثر 2 تا 6 ) سی بن ابو کثیر اسی اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ وہ (جبرائیل علیہ السلام) تخت پر آسمان وزمین کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔