صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 159 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 159

صحیح مسلم جلد اول 159 کتاب الایمان قَالَ و قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرُّجْرُ کچھ عرصہ کے لئے وقفہ آ گیا۔اس اثناء میں کہ میں الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ و چلا جا رہا تھا۔۔۔پھر راوی نے یونس والی حدیث حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بیان فرمائی سوائے اس بات کے کہ جو آپ نے أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فرمایا کہ میں بہت زیادہ گھبرا گیا یہاں تک کہ زمین کی نَحْوَ حَدِيث يُونُسَ وَقَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ طرف تیزی سے جھکا۔نیز وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے وَتَعَالَى يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ إِلَى قَوْله وَالرُّجْزَ کہا: الرُّجُزُ سے مراد الا وثَانُ " یعنی بہت ہیں۔فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد وحی خوب زور سے الْأَوْثَانُ وَقَالَ فَجُتُ مِنْهُ كَمَا قَالَ عُقَيْل شروع ہوئی اور لگا تار ہوتی رہی۔زہری سے اسی اسناد سے یونس والی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( ترجمہ ): اے کپڑا اوڑھنے والے ! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر۔اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر۔اور جہاں تک تیرے کپڑوں ( یعنی قریبی ساتھیوں ) کا تعلق ہے تو (انہیں) بہت پاک کر۔اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیۂ الگ رہ تک اور یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے اور الرجز سے مراد بت ہیں راوی نے کہا عقیل کی روایت کے مطابق فَجُشِئْتُ مِنْہ کے الفاظ ہیں۔225 {۔۔۔} وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا 225 جی کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سب سے پہلے قرآن ( کا) کونسا (حصہ) نازل ہوا؟ سَمِعْتُ يَحْيَى يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ انہوں نے کہا: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ میں نے کہا: یا اِقْرَاْ تو الْقُرْآن أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ سے سوال کیا کہ قرآن کا کونسا حصہ پہلے نازل ہوا ؟