صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 157
حیح مسلم جلد اول 157 کتاب الایمان ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وحَدَّثَنِي کہا ہاں، جب بھی کوئی شخص تیرے جیسا پیغام لایا ہے عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ تو اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر میں نے تیرا زمانہ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ پایا تو میں تیری زبر دست مدد کروں گا۔حضرت عائشہ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ پہلے پہل جو وحی الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ رسول اللہ ﷺ کو ہوئی۔اس کے آگے راوی نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى خَديجَةَ يونس جیسی روایت بیان کی سوائے ان کی اس بات يَرْجُفُ فُوَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ کے کہ خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی غم نہیں پہنچائے گا نیز حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ نے فرمایا: اے حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ میرے چا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ابن الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْى شہاب کہتے ہیں کہ میں نے عروہ بن زبیر کو کہتے الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ ہوئے سنا کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ نے فَوَاللَّهِ لَا يُخْرِيكَ اللهُ أَبَدًا وَذَكَرَ قَوْلَ فرمایا نی ہے حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے خَدِيجَةَ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔اور پھر یونس اور معمر والی روایت کی مانند بیان کیا اور ان دونوں کی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا أَوَّلُ مَابَدِى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ رسول الله الا الله پروحی کی ابتدار و یا صادقہ کے ساتھ ہوئی اور یونس کے اس قول کی متابعت کی ہے خدا کی قسم اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا نیز حضرت خدیجہ کے اس قول کا ذکر کیا ہے ”اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات ہے سنے۔224 {161} وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا :224 حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری جو رسول اللہ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ قَالَ قَالَ ابْنُ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے وہ ( رسول اللہ ہے صل الله