صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 156 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 156

صحیح مسلم جلد اول 156 کتاب الایمان بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ ان کو ساری بات بتائی۔آپ نے فرمایا: مجھے تو (اتنی الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَديجَةَ أَخي أبيها بڑی ذمہ داری لیتے ہوئے) اپنی جان کا ڈر ہے۔وَكَانَ امْرَأَ تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ حضرت خدیجہ نے آپ سے عرض کیا: ہر گز نہیں ، آپ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ کو خوشخبری ہو۔بخدا اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ کرے گا۔بخدا بلا شبہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور بچ وَكَانَ شَيْئًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ بولتے ہیں اور تھکے ہاروں کے بوجھ اُٹھاتے ہیں خَدِيجَةُ أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ قَالَ اور خوبیاں جو معدوم ہو چکی ہیں بجالاتے ہیں اور وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَل يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصائب حقہ (حوادث فَأَحْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زمانہ) پر مدد کرتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہ آپ کو خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةً هَذَا النَّامُوسُ ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی کے پاس لے الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ گئیں۔وہ حضرت خدیجہ کے چا کے بیٹے تھے ، ان وَسَلَّمَ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَدَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ کے باپ کے بھائی کے بیٹے ، اور ایک ایسے شخص تھے حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ قَالَ رَسُولُ الله جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے۔اور عربی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ لکھنا پڑھنا) جانتے تھے اور انجیل میں سے عربی ( قَةً نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا زبان میں جتنا اللہ چاہے کہ لکھیں وہ لکھا کرتے تھے وہ عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا بہت بوڑھے تھے اور نابینا ہو گئے تھے۔حضرت خدیجہ مُؤَذِّرًا و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا نے ان سے کہا: اے میرے چا ! اپنے بھتیجے کی بات عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ نہیں۔ورقہ بن نوفل نے کہا: اے میرے بھتیجے ! تم کیا وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ دیکھتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے جو دیکھا تھا ان کو بتایا تو مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ورقہ نے آپ سے کہا: یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسی علی علی وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثل پر اترا تھا۔کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور زندہ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَوَاللَّهُ لَا ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی تو رسول اللہ يُحْزَنُكَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ قَالَتْ خَديجَةُ أَيْ ﷺ نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے