صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 155 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 155

صحیح مسلم جلد اول 155 كتاب الايمان الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ غارِ حرا میں تھے آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: لذلكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا پڑھ! فرمایا: میں تو پڑھنے والا نہیں۔آپ نے فرمایا: حَتَّى فَجَتَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاء فَجَاءَهُ اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے اس قدر بھینچا کہ میری الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا بِقَارِئ قَالَ طاقت جواب دے گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ کہا: پڑھ۔میں نے کہا: میں تو پڑھنے والا نہیں تو اس أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئ نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری دفعہ بھینچا اور میری طاقت قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي جواب دے گئی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا پڑھ۔میں نے کہا: میں تو پڑھنے والا نہیں۔تو اس نے بِقَارِئ فَأَخَذَنِي فَعَطْنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مجھے پکڑ لیا اور تیسری دفعہ بھینچا یہاں تک کہ میری مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ طاقت جواب دے گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ إِقْرَا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (ترجمہ) پڑھ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔اس الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّی پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ہے۔جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔انسان کو وہ کچھ فَرَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔(العلق : 2 تا 6 ) چنانچہ لخَدِيجَةَ أَيْ خَدِيجَةُ مَا لي وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ رسول الله ا للہ ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے قَالَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي قَالَتْ لَهُ اور آپ کے کندھوں کے پٹھے کانپ رہے تھے۔خَدِيجَةُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَالله لَا يُخْزِيكَ اللهُ یہاں تک کہ آپ حضرت خدیجہ کے پاس آئے اور أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔چنانچہ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا اور پھر آپ سے وہ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الصَّيْف وَتُعِينُ عَلَى گھبراہٹ جاتی رہی۔پھر آپ نے حضرت خدیجہ نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى سے فرمایا: اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا گزری اور پھر