صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 154
صحیح مسلم جلد اول 154 كتاب الايمان وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِنْتِ نے عبد اللہ کی قراءت کے موافق پڑھا اور یہ اس کا ) فَتَطلَعُ مِنْ مَغْربهَا قَالَ ثُمَّ قَرَأ في قراءة مستقر ہے۔عَبْدِ اللَّهِ وَذَلكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 222 {۔۔۔} حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ الْأَشجُ :222: حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا ﷺ سے اس ارشاد کے بارہ میں پوچھا وَالشَّمْسُ وَقَالَ الْأَشَحُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍ لَهَا (يس :39) یعنی اور سورج عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے۔آپ نے فرمایا: اس کا مستنقر عرش کے نیچے عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَالشَّمْسُ تَجْرِي ہے۔لِمُسْتَقَرٌّ لَهَا قَالَ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ 721733: بَاب بَدء الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ علیہ کی طرف وحی کی ابتدا 223 {160} حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهر أَحْمَدُ بْنُ 223 حضرت عائشہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ بیان عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْح کرتی ہیں کہ پہلے پہل رسول اللہ ﷺ پر نیند میں کچی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ رویاء سے وحی کی ابتداء ہوئی اور آپ جو بھی رویا ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزَّبَيْرِ أَنْ دیکھتے وہ صبح صادق کی طرح پوری ہو جاتی تھی۔پھر عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ کو خلوت پسند آنے لگی اور آپ غار حرا میں تنہا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدئ به رہتے تھے اور کئی راتیں عبادت میں مصروف رہتے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ (تحنث کے معنے عبادت کے ہیں ) قبل اس کے کہ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا آپ اپنے اہل کی طرف لوٹتے اور اس غرض کے لئے يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ تو شہ لیتے۔پھر آپ حضرت خدیجہ کی طرف واپس حُبِّبَ إِلَيْهِ الْعَلَاءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاء آتے اور اتنی ہی ( راتوں کے لئے ) تو شہ لیتے یہاں يَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعْبُدُ اللَّيَالَيَ أَوْلَاتٌ تک کہ آپ کے پاس اچانک حق آگیا اور آپ