صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 153
صحیح مسلم جلد اول 153 كتاب الايمان طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله اس وقت ہوگا جب کسی ایسی جان کو اس کا ایمان فائدہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ ذَاكَ حِينَ لَا نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو یا اپنے يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ ایمان کی حالت میں کوئی نیکی نہ کما چکی ہو۔كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا وحَدَّثَنِي عَبْدُ (الانعام: 159) * الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانِ الْوَاسِطِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْد اللَّه عَنْ يُونُسَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذه الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ 221 {۔۔۔} و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 221 حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل وَأَبُو كُرَيْب وَاللُّفْظُ لَأَبِي كُرَيْب قَالَ ہوا اور رسول اللہ علے وہاں تشریف فرما تھے جب حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تم إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ الله صَلَّى الله کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا : یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ جاتا ہے اور سجدے کی اجازت مانگتا ہے چنانچہ اسے قَالَ يَا أَبَا ذَرْ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ اجازت دی جاتی ہے اور اسے گویا کہا گیا ہے کہ جہاں قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا سے آیا ہے وہیں لوٹ جا۔چنانچہ وہ اپنے مغرب سے تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ في السُّجُودِ فَيُؤذَنُ لَهَا طلوع ہوگا۔راوی کہتے ہیں پھر (حضرت ابو ذر : حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ فرماتے ہیں در حقیقت خدا تعالیٰ کا انتظام یہی ہے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام اور کائنات الجق میں ہو رہا ہے یا کبھی کبھی ظہور میں آتا ہے وہ صرف اجرام اور اجسام کے افعال شتر بے مہار کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کے تمام واقعات کی زمام اختیار حکیم قدیر نے ملائک کے ہاتھ میں دے رکھی ہے جو ہر دم اور ہر طرفتہ امین میں اس قادر مطلق سے اذن پا کر انواع واقسام کے تصرفات میں مشغول ہیں اور نہ عبث طور پر بلکہ سراسر حکیمانہ طرز سے بڑے بڑے مقاصد کے لئے اس کرہ ارض و سماء کو طرح طرح کی جنبشیں دے رہے ہیں اور کوئی فعل بھی ان کا بیکار اور بے معنی نہیں“۔( حاشیہ آئینہ کمالات اسلام صفحہ 133)