صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 144 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 144

صحیح مسلم جلد اول 144 يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَعیل ہے! میں کسی شخص کو دیتا ہوں۔بن مُحَمَّد قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ کتاب الایمان [69]68: بَاب زِيَادَةِ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ بِتَظَاهُرِ الْأَدِلَّةِ دلائل کے ایک دوسرے کی تائید سے اطمینان قلب میں اضافہ ہونا 208 {151} و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :208: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ ﷺ نے فرمایا ہم ابراہیم ﷺ سے زیادہ شک شهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کرنے کے حقدار ہیں جب انہوں نے کہا وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ (ترجمہ : اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو مر دوں ): رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔اس نے کہا: کیا تو نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكَ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى الله ایمان نہیں لا چکا۔اس نے کہا: کیوں نہیں مگر اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي لئے پوچھا ہے ) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ (البقره: 261) آپ نے فرمایا: اللہ لوط پر رحم کرے ليَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ وہ ایک مضبوط سہارا کی پناہ حاصل کرتے تھے اور اگر كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي میں قید خانے میں اتنی دیر ہتا جتنا یوسف رہے تھے تو السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ بلانے والے کی بات مان لیتا۔مالک کی روایت ہے حَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِيُّ (ترجمہ): اس لئے (پوچھا و مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ہے ) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر عَنْ مَالِكِ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ نے یہ آیت پڑھی اور پوری پڑھی۔