صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 143
صحیح مسلم جلد اول 143 کتاب الایمان رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ يا رسول الله ! آپ کا فلاں کے بارہ میں کیا خیال ہے لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔رسول اللہ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانِ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ﷺ نے فرمایا : یا مسلم ! میں تھوڑی دیر خاموش رہا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ پھر اس کے بارہ میں میں جو جانتا تھا اس نے مجھے مُسْلِمًا قَالَ فَسَكَتْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا مجبور کر دیا اور میں نے کہا: آپ کا فلاں کے بارہ میں أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ کیا خیال ہے اللہ کی قسم میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا مسلم ! وہ کہتے ہیں میں الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ پھر تھوڑی دیر چُپ رہا مگر پھر اس کے متعلق جانتا تھا فَسَكَتْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ اس نے مجھے مجبور کر دیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ ! فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانِ فَوَالله فلاں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے، اللہ کی قسم میں إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله اسے مومن سمجھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا إِنِّي لَأَعْطِي الرَّجُلَ یا مسلم میں کسی شخص کو دیتا ہوں حالانکہ کوئی اور مجھے وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشِيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے اس ڈر سے کہ اسے منہ النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ کے بل آگ میں نہ گرا دیا جائے۔الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حضرت سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ حَدَّثَنَا قبیلہ کو کچھ دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا ابن أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ، قَالَ حَدَّثَني شہاب کے بھتیجے کی روایت کے مطابق جو انہوں نے عَامِرُ بْنُ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَى اپنے چا سے روایت کی یہ بات زائد بتائی کہ میں رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا رسول الله اللہ کے پاس گیا اور چپکے سے کہا اس کے وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخي متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَى محمد بن سعد سے روایت ہے وہ یہ حدیث بیان کرتے رَسُول الله فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری گردن اور کندھے فَلَانٍ وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا کے درمیان ہاتھ مارا اور فرمایا: اے سعد! کیا لڑائی