صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 142 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 142

حیح مسلم جلد اول 142 کتاب الایمان قَالَ فَقُلْنَا يَارَسُولَ الله أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَ تم نہیں جانتے شاید تم آزمائے جاؤ۔وہ کہتے ہیں کہ نَحْنُ مَا بَيْنَ السِّرِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةٍ قَالَ پھر ہم ابتلاؤں میں ڈالے گئے یہاں تک کہ ہم میں إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيْنَا سے بعض نماز بھی چھپ کر پڑھنے لگے۔حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا [68]67: بَاب تَأْلْفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِمَانِهِ لِضَعْفِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلِ قَاطِعِ اس کی تالیف قلب کرنا جو اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنے ایمان پر خوف رکھتا ہے اور بغیر کسی قطعی دلیل کے ایمان سے کاٹنے کی ممانعت 206 {150} حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا 206: عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامر بن سَعْدِ عَنْ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ علیہ نے ایک بار کچھ مال أَبِيهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تقسیم کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! فلاں کو بھی دیں وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَ وہ بھی مومن ہے تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: یا مسلم فَلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہے۔میں نے تین دفعہ یہی بات عرض کی اور تینوں وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمٌ أَقُولُهَا ثَلَالًا وَيُرَدْدُهَا عَلَيَّ وقعہ آپ نے فرمایا یا مسلم ہے پھر فرمایا: میں کسی شخص کو ثَلَاثًا أَوْ مُسْلَمَ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ دیتا ہوں جبکہ کوئی اور شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يَكْبُهُ اللهُ ہوتا ہے اس خوف سے کہ اللہ تعالیٰ کہیں اسے اوندھے منہ آگ میں نہ گرا دے۔في النَّار 207 {۔۔۔} حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا 207: عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے باپ سعد سے يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخي ابنِ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو شهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ دیا اور حضرت سعد بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے۔سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ أَنَّ حضرت سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے ان میں رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اسے کچھ نہ دیا حالانکہ وہ رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَكَ مجھے ان سب سے زیادہ پسند تھا۔میں نے عرض کیا