صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 8 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 8

صحیح مسلم جلد اول 8 كتاب الايمان روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔(لقمان:35) وہ کہتے ہیں پھر وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس واپس لاؤ۔اسے تلاش کیا گیا مگر انہوں نے اسے نہ پایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل تھے کیونکہ تم سوال نہیں کر رہے تھے اس لئے انہوں نے ارادہ کیا کہ تم علم حاصل کرو۔[2] 4 : بَاب بَيَانِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي هِيَ أَحَدُ أَرْكَانِ الْإِسْلَامِ نمازوں کا بیان جو ارکان اسلام میں سے ایک ہے 4 {11} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ :4 حضرت طلحہ بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ اہل نجد میں بنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ مَالِكِ سے ایک پراگندہ سر، آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ آیا۔ہم اس کے بولنے کی آواز سنتے تھے مگر سمجھ نہ آتی أَبيه أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ﷺ کے قریب ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تَجْدِ قَائِرُ الرَّأْسِ تَسْمَعُ متعلق پوچھ رہا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ نمازیں دن رات میں ہیں۔اس نے کہا: کیا مجھ پر ان رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں سوائے يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اس کے کہ تم نفل پڑھو، اور ماہ رمضان کے روزے۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتِ فِي الْيَوْمِ اس نے کہا کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم نفلی روزے تَطَّوَّعَ وَصِيَامُ شَهْرٍ رَمَضَانَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ رکھو۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوۃ کا ذکر