صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 139
صحیح مسلم جلد اول 139 کتاب الایمان مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا فَقَالَ إِنَّ أَمِيرَ گا۔یہ حدیث غلط باتوں پر مشتمل نہ تھی۔ابو خالد کہتے الْمُؤْمِنِينَ أَمْس لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ ہیں میں نے سعد سے کہا اے ابو مالک اَسْوَدُ مُرُبَادًا أَصْحَابَهُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُول الله کے کیا معنے ہیں ؟ انہوں نے کہا : سیاہی میں تیز صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ وَسَاق سفیدی۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا کوزہ کے مُجَخّيًا الْحَدِيثَ بمثْلِ حَديث أبي خالد وَلَمْ ہونے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكَ لِقَوْلِهِ مُرْبَادًا اوندھا ہونا۔ربعی کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہ مُجَيًا و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حضرت عمرؓ کے پاس سے آئے تو بیٹھ کر ہم سے باتیں وَعَمْرُو بْنُ عَلِيِّ وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمِ الْعَمِّيُّ کرنے لگے کہ امیر المؤمنین کے پاس کل جب میں قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ بیٹھا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: تم میں سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدِ عَنْ بن أبي هند عَنْ سے کس کو رسول اللہ علیہ کا قول فتنوں کے بارے رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ میں یاد ہے؟ پھر اس حدیث کو اس طرح تفصیل سے مَنْ يُحَدِّثُنَا أَوْ قَالَ أَيُّكُمْ يُحَدِّتُنَا وَفِيهِمْ بیان کیا جیسے ابو خالد کی روایت اور انہوں نے یہ ذکر حُذَيْفَةُ مَا قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نہیں کیا ابو مالک نے مربادا اور مجخيا کے معنی وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا وَسَاقَ بتائے تھے۔ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِكِ عَنْ حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رِبْعِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيث قَالَ حُذَيْفَةُ نے فرمایا کون ہمیں بتائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے بارہ میں کیا فرمایا ہے؟ اور ان میں حضرت حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيط وَقَالَ يَعْنِي أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حذیفہ تھے اور حضرت حذیفہ نے کہا ” میں اور پھر راوی نے پوری روایت ابو مالک کی روایت کی طرح ربعی سے بیان کی اور روایت میں کہا کہ حضرت حذیفہ نے کہا کہ میں نے ان (حضرت عمر ) کو ایک حدیث سنائی ہے جو غلط باتیں نہیں ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔