صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 138 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 138

سحیح مسلم جلد اول 138 کتاب الایمان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفَتَنَ الَّتِي تَمُوجُ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ حُذَيْفَةُ فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ ہوں گے۔حضرت حذیفہ نے کہا: یہ سن کر لوگ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ أَنْتَ للَّه أَبُوكَ قَالَ حُذَيْفَةُ خاموش ہو گئے۔میں نے کہا: میں نے سنا ہے) سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عمر نے کہا: تم نے ! واہ تمہارے باپ کے کیا يَقُولُ تُعْرَضُ الْفَتَنُ عَلَى الْقُلُوب کہنے ! حضرت حذیفہ نے کہا : میں نے رسول اللہ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَيُّ قَلْبِ أُشْرِبَهَا ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: فتنے دلوں پر ایسے درپیش تُكتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ وَأَيُّ قَلْبِ أَنْكَرَهَا ہوں گے جس طرح چٹائی کی طرح جو تنکا تنکا ہوتی تكِتَ فِيهِ تَكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتَّى نَصِيرَ عَلَی ہے۔(یعنی پے در پے فتنے ہوں گے ) جس دل میں قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ وه فتنے رچ بس گئے اس میں ایک سیاہ داغ لگ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ جائے گا اور جس دل نے ان کو رد کر دیا اس میں سفید أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخَيًّا لَا يَعْرِفُ نشان لگ جائے گا یہاں تک کہ دو قسم کے دل ہو مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ جائیں گے۔ایک سفید چکنے پتھر کی طرح اور اسے کوئی هَوَاهُ قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا فتنه ضرر نہیں دے گا جب تک آسمان و زمین قائم بَابًا مُعْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ قَالَ عُمَرُ ہیں۔اور دوسرا سیاہ مٹیالا اوندھے کوزہ کی طرح جو نہ أَكَسْرًا لَا أَبَا لَكَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ کسی نیکی کو پہچانتا ہو اور نہ کسی برائی کو برائی جانتا ہو قُلْتُ لَا بَلْ يُكْسَرُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ سوائے اس گری ہوئی خواہش کے جو اس میں رچ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بس گئی ہو۔حضرت حذیفہ نے کہا : میں نے انہیں بالأغاليط قَالَ أَبُو خَالد فَقُلْتُ لسَعْدِ يَا أَبَا ( حضرت عمرؓ کو بتایا کہ آپ کے اور اس کے درمیان مَالِكَ مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًا قَالَ شَدَّةُ الْبَيَاضُ فِي ایک بند دروازہ ہے جو بعید نہیں کہ توڑ دیا جائے۔سَوَادِ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْكُورُ مُجَحْيَا قَالَ حضرت عمر نے پوچھا: کیا تو ڑا جائے گا ! تیرا بھلا ہو، مَنْكُوسًا و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا اگر یہ کھولا جا تا تو شاید کبھی بند بھی کر دیا جاتا۔میں نے مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكِ کہا نہیں بلکہ تو ڑا جائے گا اور میں نے انہیں بتایا کہ الْأَسْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيُّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةٌ وه دروازہ ایک شخص ہے جو قتل کیا جائے گا یا مر جائے