صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 137 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 137

حیح مسلم جلد اول 137 کتاب الایمان يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فَلَان رَجُلًا أَمينًا حَتَّى يُقَالَ خرید و فروخت کرنے لگیں گے مگر کوئی اس بات کے للرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ مَا أَظْرَفَهُ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قریب نہ ہوگا کہ امانت ادا کرے یہانتک کہ کہا قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَل مِنْ إِيمَان وَلَقَدْ جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امین شخص رہتا أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيْكُمْ بَايَعْتُ لَئن ہے۔یہاں تک کہ ایک شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّتَهُ عَلَيَّ دِينُهُ وَلَئِنْ كَانَ وہ کیسا طاقتور، اعلیٰ ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدُّلَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ وَأَمَّا کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان الْيَوْمَ فَمَا كُنتُ لِأَبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا نہیں ہو گا۔(حضرت حذیفہ نے کہا مجھ پر ایک ایسا و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ ح و زمانہ بھی آچکا ہے کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ حَدَّثَنَا إِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ میں تم میں سے کس سے لین دین کر رہا ہوں اگر وہ يُونُسَ جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مسلم ہوتا تو اس کا دین اس کو مجھ سے زیادتی سے باز رکھتا اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا نگران اس کو مثْلَهُ میرے ساتھ بد دیانتی سے باز رکھتا مگر آج تو میں ایسا نہیں ہوں کہ تم میں سے فلاں فلاں کے سوا کسی سے لین دین کروں۔199{144} وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :199: حضرت حذیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِد يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ ہم حضرت عمر کے پاس تھے۔انہوں نے کہا تم میں حَيَّانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقِ عَنْ رِبْعِيٌّ عَنْ سے کس نے رسول اللہ ﷺ کوفتوں کا ذکر فرماتے حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ ہوئے سنا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہم نے آپ سے رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ سنا ہے۔حضرت عمر نے کہا: شاید تمہاری مراد اس فتنہ الْفِتَنَ فَقَالَ قَوْمٌ نَحْنُ سَمِعْنَاهُ فَقَالَ لَعَلَّكُمْ سے ہے جو آدمی کو اپنے اہل اور پڑوسی کے متعلق پیش تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ قَالُوا آتا ہے۔انہوں نے کہا : ہاں۔( حضرت عمر نے ) أَجَلْ قَالَ تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّيَامُ کہا: اس کا کفارہ تو نماز ، روزہ اور صدقہ ہو جاتا ہے مگر وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى تم میں سے کون ہے جس نے نبی ﷺ کو ان فتنوں کا