صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 131 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 131

صحیح مسلم جلد اول 131 كتاب الايمان 190 {۔۔۔وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ :190 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں ( حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشد نے رسول اللہ ﷺ کو سنا۔آپ فرماتے تھے جس وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيْنَ سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ نے کسی مسلمان شخص کا مال لینے کی خاطر جس پر اس کا سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ حق نہیں قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِم کہ اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب بِغَيْرِ حَقِّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ سے ہم پر یہ آیت پڑھی إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ترجمه: یقیناوہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور اپنی قسموں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كتاب الله إِنَّ کو معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں یہی ہیں جن کا الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور اللہ نہ ان سے کلام قَلِيلًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان پر نظر ڈالے گا اور نہ انہیں ٹھہرائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب مقدر ہے۔(آل عمران : 78) 191 {139} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ وَأَبُو :191 علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِي وَأَبُو ہیں کہ حضر موت سے ایک آدمی اور کندہ سے ایک عَاصِمِ الْحَنَفِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا آدمی نبی ﷺ کے پاس آئے۔حضرموت والے نے أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَمَاكَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ کہا: یا رسول اللہ ! اس شخص نے میری زمین دبالی ہے وَائِلِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ جو میرے باپ کی تھی کندہ والے نے کہا یہ میری زمین حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ عِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ ہے میرے قبضہ میں ہے میں اس کو کاشت کرتا ہوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اس رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضِ حضری سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی ثبوت ہے؟ لي كَانَتْ لأَبي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي اس نے کہا نہیں۔تو آپ نے فرمایا: تیرے فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ لئے تمہارے مقابل پر ) اس کی قسم ہوگی۔اس نے