صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 110 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 110

صحیح مسلم جلد اول 110 کتاب الایمان صل النَّبِيِّ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْس والوں میں سے ہوں اور نبی ﷺ کے پاس جانے فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ سے رک گئے۔اس پر نبی ﷺ نے حضرت سعد بن عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ معاذ سے پوچھا اور فرمایا: اے ابو عمرو! ثابت کا کیا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَادٍ حال ہے؟ کیا وہ بیمار ہے؟ حضرت سعدؓ نے کہا: وہ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اَشتَكَى میرا ہمسایہ ہے اور مجھے ان کی بیماری کا علم نہیں۔راوی قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ کہتے ہیں حضرت سعد اُن کے پاس گئے اور بِشَكْوَى قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رسول اللہ ﷺ کی بات کا ذکر کیا۔اس پر حضرت رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثابت نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ ثابت أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے میری آواز تم مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى سب سے اونچی ہوتی ہے۔اس لئے میں آگ والوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ میں سے ہوں اور حضرت سعد نے یہ بات نبی علیہ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی خدمت میں ذکر کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتیوں میں سے ہے۔هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرِ حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت ثابت بن حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ قیس بن شماس انصار کے خطیب تھے جب یہ آیت أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ نازل ہوئی۔۔۔۔حماد کی روایت میں حضرت سعد شَمَّاسِ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذه بن معاذ کا ذکر نہیں۔الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ حضرت انس کہتے ہیں کہ جب آیت اتری۔ترجمہ : ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ اے لوگو جو ایمان لائے ہو نبی کی آواز سے اپنی سَعِيدِ بْنِ صَحْرِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ آوازیں بلند نہ کیا کرو۔آیت کے آخر تک۔حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَة عَنْ ثَابت عَنْ (الحجرات : 2 ) مگر حدیث میں حضرت سعد کا ذکر أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ نہیں کیا۔فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذَ حضرت انس کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری اور یہ پھر