صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 108
صحیح مسلم جلد اول 108 كتاب الايمان وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوُا کے ہاتھوں سے بہت سا خون بہہ گیا اور وہ مر گیا۔الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ حضرت طفیل بن عمرو نے اس کو خواب میں اس طرح فَقَطَعَ بِهَا بَرَاحِمَهُ فَشَحَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى دیکھا کہ اس کی حالت تو اچھی تھی مگر انہوں نے دیکھا مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرُو فِي مَنَامه کہ اس نے اپنے ہاتھ ڈھانپے ہوئے تھے۔انہوں فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ وَرَآهُ مُغَطَّيَا يَدَيْهِ فَقَالَ نے پوچھا: تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ فَقَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتي کیا؟ اُس نے کہا: اللہ نے مجھے اپنے نبی ﷺ کی إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي طرف ہجرت کرنے کی وجہ بخش دیا۔انہوں نے أَرَاكَ مُغَطَّيًا يَدَيْكَ قَالَ قِيلَ لِي لَنْ نُصْلِحَ کہا: پھر کیا بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ تم نے اپنے مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى ہاتھ ڈھانچے ہوئے ہیں؟ اس نے کہا: مجھے کہا گیا کہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جو تو نے خود بگاڑا ہم اس کو درست نہیں کریں گے۔رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حضرت طفیل نے یہ (رویا) رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کی تو آپ نے دعا کی : اے اللہ ! اس وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے۔[50]49:بَاب فِي الرِّيحِ الَّتِي تَكُونُ قُرْبَ الْقِيَامَةِ تَقْبِضُ مَنْ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْإِيمَان اُس ہوا کا بیان جو قیامت کے قریب چلے گی اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اسے قبض کرلے گی الله 160 {117} حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ 160: حضرت ابو ہریرۃ کہتے ہیں کہ رسول اللہ الصَّبِّي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّد وَأَبُو ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا چلائے گا عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی اور جس کے دل میں سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ (بقول ابو علقمہ کے) ایک دانے کے برابر اور أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ (بمطابق روایت عبدالعزیز) ذرہ کے برابر بھی