صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 106 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 106

صحیح مسلم جلد اول 106 كتاب الايمان وَسَلَّمَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى دیکھا ہے ایک چادر کی وجہ سے جس میں اس نے مَرُّوا عَلَى رَجُل فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ خیانت کی تھی یا ایک عباء کی وجہ سے۔پھر رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! جاؤ اور رَأَيْتُهُ في النَّارِ في بُرْدَة غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ ثُمَّ لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا داخل ہوں گے۔وہ کہتے ہیں۔چنانچہ میں نکلا اور ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا اعلان کیا کہ سنو جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ نہیں ہوگا۔فَنَادَيْتُ أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ 158 {115} حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهر قَالَ :158 حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَس عَنْ ساتھ خیبر کی طرف نکلے اور اللہ نے ہمیں فتح دی۔ثَوْرِ بْنِ زَيْدِ الدُّوَلِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ ہمیں کوئی سونا اور چاندی غنیمت میں نہیں ملا۔ہمیں مَوْلَى ابْنِ مُطِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و ح و حَدَّثَنَا کچھ سامان اور غلہ اور کپڑے غنیمت میں ملے تھے۔بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِیثُهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ پھر ہم وادی کی طرف گئے اور رسول اللہ علیہ کے الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرِ عَنْ أَبِي ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جو جذام ( قبیلہ ) کی شاخ الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ بَني الطبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَفَتَحَ اللَّهُ کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کیا تھا۔جب ہم وادی عَلَيْنَا فَلَمْ تَعْلَمُ ذَهَبًا وَلَا وَرِقَا غَنِنَا الْمَتَاعَ میں اترے رسول اللہ ﷺ کا غلام کھڑا کجا وہ کھول رہا وَالطَّعَامَ وَالْقِيَابَ ثُمَّ الطَلَقْنَا إِلَى الْوَادي تھا کہ اُسے ایک تیر لگا جس سے وہ مر گیا۔ہم نے کہا: وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسے شہادت مبارک ہو یا رسول اللہ !مگر رسول اللہ عَبْدٌ لَهُ وَهَبَهُ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُدَامَ يُدْعَى ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الصُّبَيْب فَلَمَّا نَزَلْنَا ہاتھ میں محمد کی جان ہے وہ چادر اس پر آگ بھڑ کا الْوَادِي قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن مال غنیمت کی تقسیم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُلُّ رَحْلَهُ فَرُمِيَ بِسَهُم فَكَانَ سے پہلے لے لی تھی۔