صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 103 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 103

سحیح مسلم جلد اول 103 کتاب الایمان فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ مرا نہیں ہاں اُسے شدید زخم آئے ہیں۔جب رات النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّارِ فَكَادَ ہوئی تو وہ زخموں پر صبر نہ کر سکا اور خود کشی کر لی۔اور بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا: اللہ ذَلكَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَکن به جراحًا اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا شَدِيدًا فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى رسول ہوں۔پھر آپ نے بلال کو حکم دیا اور انہوں الْحِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جنت میں صرف عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ فرمانبردار نفس ہی داخل ہوگا۔ہاں اللہ تعالیٰ اس دین أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي کی بعض دفعہ کسی فاجر کے ذریعہ بھی تائید کر دیتا ہے۔النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ صلى الله وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ 155 {112} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد حَدَّثَنَا :155 حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ حَيٌّ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کی مٹھ بھیڑ ہوئی مِنَ الْعَرَبِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ اور انہوں نے جنگ کی پھر جب رسول اللہ علیہ اپنے سَعْد السَّاعدي أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله لشکر کی (قیامگاہ) کی طرف گئے اور دوسرے اپنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ لشکر کی قیام گاہ) کی طرف گئے۔رسول اللہ علے فَاقْتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کے صحابہ کے درمیان ایک ایسا شخص تھا کہ ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ مسلمانوں کے لئے کسی اکا دُکا کو نہ چھوڑتا تھا بلکہ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ الله اس کا پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے اسے ہلاک کر دیتا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ (لوگوں ) نے کہا آج یہ شخص جیسا ہمارے کام آیا ہے شَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقَالُوا مَا اور کوئی نہیں آیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! یہ تو أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ جہنمی ہے۔لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ ہمہ وقت اس کے ساتھ لگا رہوں گا۔چنانچہ وہ اس مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا کے ساتھ نکل پڑا، جب وہ کہیں ٹھہرتا تو یہ بھی ٹھہر جاتا