سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 99

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 67 کو بھی بڑھائیں۔ ایسے عہدیدار بھی ہیں یا ہوتے ہیں جو اپنی اہمیت کی طرف تو توجہ دلانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ ہم عہدیدار ہیں لیکن خلافت کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ سال میں ایک یوم خلافت منا کر ہم نے فرض ادا کر دیا۔ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے کہ جتنا زور جماعت کو خلافت سے تعلق کے بارے میں دیا جانا چاہیے اتنا نہیں دیا جاتا۔ اب میرے کہنے پر بعد میں جلسوں میں تقاریر تو شروع ہو گئی ہیں لیکن اس بات کو راسخ کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ خلیفہ وقت کی باتوں کو سنو اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ اپنا خلافت سے تعلق بڑھاؤ۔ جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اپنی حالتوں میں بھی غیر معمولی تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ اپنے عمل کو بھی خلیفہ وقت کے تابع کریں مختلف واقعات کے ذریعہ علماء اور عہدیدار خلافت کی اہمیت کو جماعت میں وقتاً فوقتاً بیان کرتے رہیں تو ایمانوں میں مضبوطی اور مزید جلاء پیدا ہوتی ہے۔ عہدیدار خلافت کے نمائندے کے نام پر اپنی اہمیت تو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں کہیں عہد یدار کھڑا ہو گا وہ کہے گا میں خلافت کا نمائندہ ہوں اور ان عہدیداروں میں مرد بھی شامل ہیں اور لجنہ کی صدرات بھی شامل ہیں اور عہدیدار بھی شامل ہیں لیکن خلافت سے تعلق کو اس طرح انہوں نے ذہنوں میں نہیں ڈالا جس طرح ڈالنا چاہیے۔ اگر یہ عہدیدار خلافت کی اہمیت اور تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے تو ان عہدیداروں کی اہمیت خود بخود بڑھ جائے گی۔ پس یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔ اس میں سب لوگ شامل ہیں چاہے وہ مربیان ہیں، عہدیداران ہیں یا دین کا علم رکھنے والے ہیں کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بنیں۔ اپنے عمل کو بھی خلیفہ وقت کے تابع کریں اور دوسروں کو بھی نصیحت کریں۔ یہ تصور غلط ہے کہ ایک دفعہ کہہ دیا تو بات ختم ہو گئی۔ یہ نصیحت اور تعلق کے اظہار کا بار بار ذکر ہونا چاہیے۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ افراد جماعت کو بھی اور علماء اور عہدیداران کو بھی یہ توفیق دے کہ خلافت کی باتوں کو نہ صرف سننے والے ہوں بلکہ عمل کرنے والے بھی ہوں۔ یہ لوگ یوم خلافت پر