سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 98
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 66 دیکھ لیا۔ روز بروز ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ان کی مرکزیت ختم ہو رہی ہے۔ ان کا نظام بے سہارا ہو رہا ہے۔ پس یہ خلافت کے ساتھ محبت اور اطاعت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر رہی ہے اور بہتر نتائج نکل رہے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قائم کر دہ نظام ہے اس لئے دین کی ترقی کے لئے ہر کوشش کو اس نے خلافت سے وابستہ کر دیا۔ خلیفہ وقت کی باتوں کو سنو اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرو ۔۔۔ اگر کسی عہدیدار کے دل میں کبھی میں آئے یا خود پسندی پیدا ہو تو اسے استغفار کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ پس جماعت احمدیہ کی ترقی میں نہ علماء کی علمیت کام دے رہی ہے، نہ عقلمند کی عقل کام دے رہی ہے، نہ دنیاوی علم رکھنے والے کا علم و ہنر کام دے رہا ہے۔ اگر کسی دینی علم رکھنے والے، اگر کسی عقلمند کی عقل، اگر کسی دنیاوی علم والے کی علمیت، اگر ماہرین کے ہنر جماعت کے کاموں میں غیر معمولی نتائج پیدا کر رہے ہیں تو یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ہے کیونکہ اس وابستگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ان نتائج کا وعدہ ہے اور اس لئے وہ عطا فرما رہا ہے۔ دنیا داروں میں یا دنیا داری میں بیشک علم عقل اور ہنر کام دے سکتا ہے لیکن جماعت میں رہنے والے کو بہر حال بہترین نتائج کے لئے جماعتی کاموں میں خاص طور پر اپنے آپ کو خلافت کا تابع فرمان کرنا ہو گا۔ اسی طرح علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے یعنی نئے ماننے والے اور نئے نوجوان اور بچے جنہیں خلافت کے ساتھ حقیقی تعلق کا ادراک نہیں ہے تو وہ انہیں اس سے آگاہ کریں، اس بارے میں بتائیں۔ اسی طرح عہدیدار بھی ذمہ دار ہیں۔ بعض عہدیدار ایسے ہیں جو منتخب ہو کر عہدیدار تو بن جاتے ہیں لیکن دین کا انہیں کچھ دین کا منہ پتا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے عہدے کو بھی دنیاوی عہدے کی طرح سمجھتے ہیں۔ میرے سامنے جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ میرے پاس فلاں عہدہ ہے تو میں انہیں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ عہدہ نہ کہو خدمت کہو اور اگر خدمت دین کا اللہ تعالیٰ نے موقع دے دیا ہے تو اپنے دینی علم کو بھی بڑھائیں اور اپنے اخلاص اور وفا کو بھی بڑھائیں، اپنے تقویٰ کو بھی بڑھائیں اور خلافت کے ساتھ اپنے تعلق