سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 95
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 63 ہر طبقے کو سلام کو رواج دینا چاہیے ایک دفعہ کسی نے حضرت مصلح موعودؓ کو شکایت کی کہ ماتحت ہمیں سلام نہیں کرتے یا چھوٹے جو ہیں وہ بڑوں کو سلام نہیں کرتے۔ اس پر آپ نے یہ نصیحت فرمائی کہ ”سلام کرنے کا حکم دونوں کے لئے یکساں ہے۔ “ ایک جیسا ہے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ”میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شعر سنا ہوا ہے کہ وہ نہ آئے تو تُو ہی چل اے میر تیری کیا اس میں شان گھٹتی ہے“ فرماتے ہیں کہ ”اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ایک بھائی نہیں مانتا تو کیوں نہ ہم خود اس پر عمل کر لیں۔ پس اگر شکایت درست ہے تو یہ فعل عقل کے خلاف اور اخلاق سے گرا ہوا ہے۔ یہ کہیں حکم نہیں کہ سلام صرف چھوٹا کرے، بڑا نہ کرے۔ اگر ماتحت نے نہیں کیا تو افسر خود پہلے کر دے۔ “ فرماتے ہیں کہ ”میرا اپنا یہ طریق ہے کہ جب خیال ہوتا ہے تو میں خود پہلے سلام کہہ دیتا ہوں۔ بعض دفعہ خیال نہیں ہوتا تو دوسرا کہہ دیتا ہے“۔ فرماتے ہیں ایسی باتوں میں ناظروں کو اعتراض کرنے کی بجائے خود نمونہ بننا چاہیے ۔ “ (خطبات محمود جلد 22 صفحہ 173) پس ہمارے ہر عہدیدار کو چاہیے وہ جس بھی سطح کے عہدیدار ہیں، چاہیے کہ اپنے نمونے قائم کریں۔ سلام کرنے میں پہل کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ انتظار کریں کہ چھوٹا یا ماتحت مجھے سلام کرے۔ بعض بڑے یا عہدیدار ایسے بھی ہیں جو سلام کا جواب بھی مشکل سے دیتے ہیں۔ ایسی بھی شکایتیں میرے پاس آتی ہیں۔ تو افسروں کو اگر شکوہ ہے تو لوگوں کو بھی شکوہ ہوتا ہے کہ سلام کا جواب نہیں دیتے یا اتنی ہلکی (آواز سے) منہ میں دیتے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آتی یا ایسی بے اعتنائی سے دے رہے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے کیا مصیبت پڑ گئی۔ بہر حال جماعت کے اندر ہر طبقے کو سلام کو رواج دینا چاہیے۔ یہ حدیث بھی ہے۔“ 66 ( خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2015ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27 فروری 2015ء صفحہ 5-6)