سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 94
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 62 طور پر کرنے کا طریق پتا چلا۔ ہماری ستیاں دُور ہوئیں۔ لیکن اگر اس بات کو لے کر عہدیدار بھی اور جو بھی دوسرے ذمہ دار ہیں بیٹھے رہیں کہ ہم نے اپنے درس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس سنا دیا۔ یا لوگ خلیفہ وقت کا خطبہ سن لیتے ہیں اس لئے بار بار ذاتی طور پر بھی اور مختلف مجالس میں بھی ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، یاد دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ غلط ہیں۔ چاہے اس نیت سے بھی نصیحت سے رکیں کہ اگر خلیفہ وقت کی نصیحت کا اثر نہیں ہوا تو ہماری نصیحت کا کیا اثر ہو گا تب بھی غلط ہے۔ یاد دہانی بہر حال ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ بعض باتیں بعض لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتیں۔ میں خود بھی کوشش کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے الفاظ کو اپنے الفاظ میں بھی آسان رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کروں۔ لیکن پھر بھی میں نے جائزہ لیا ہے بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ یا جو وہ سمجھے وہ صحیح نہیں تھا۔ اس لئے اگر وقتا فوقتا آسان انداز میں ہلکے پھلکے طور پر مجالس میں سمجھایا جاتا رہے تو کم استعداد والوں کو بھی سمجھ آجاتی ہے۔“ ( خطبه جمعه فرمودہ 30 جنوری 2015 ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 20 فروری 2015ء صفحہ 7)