سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 93

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 61 جماعت کی علمی اور دینی ترقیات کے معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کریں واقفین زندگی اور خاص طور پر مرتبیان کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور افراد جماعت کی استعدادوں کے معیار بلند کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح عہدیدار ہیں۔ افراد جماعت انہیں اس لئے عہدیدار بناتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جن افراد کو ہم کوئی عہدہ دینا چاہتے ہیں ان کی استعدادیں ، ان کا علم ، ان کی عقل ہم سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ منتخب کرنے والوں کی یہ سوچ ہونی چاہیے اور یہ سوچ رکھنا فرض کی ادائیگی کا کم از کم معیار ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتے۔ اگر یہ کم از کم معیار عہدیدار منتخب کرتے وقت سامنے ہو تو کبھی کوئی ایسا عہدیدار منتخب نہ ہو جو صرف عہدے کے لئے منتخب کیا گیا ہو۔ بہر حال عہدیداروں کا بھی یہ فرض ہے کہ جماعت کی علمی اور دینی ترقی کے معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کریں، ان کی استعدادوں کو بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ اپنے اپنے لحاظ سے ہر ایک شخص کی استعدادوں میں اضافہ ہوتار ہے۔ تربیت کا معاملہ ہے تو سیکر ٹری تربیت اور صدر جماعت کے ساتھ باقی عاملہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے نمونے کے ساتھ دوسروں کی تربیت کی طرف بھی توجہ دیں۔ مثلاً خطبات سننا ہے ، درس سننا ہے ، جماعتی پروگراموں میں شامل ہونا ہے تا کہ دینی اور علمی اور روحانی ترقی ہو۔ ان فنکشنز پر لانا اور پھر ان خطبات وغیرہ اور جلسوں وغیرہ سے فائدہ اٹھا کر مستقل افراد جماعت کو یاد دہانی کرواتے رہنا، یہ عہدیداروں کا کام ہے۔ جہاں یہ مربیان کا فرض ہے وہاں عہدیداروں کا بھی کام ہے۔ عاملہ کے تمام ممبر ان کا فرض ہے۔ یاد دہانی ضروری ہے یاد دہانی ضروری ہے۔ بعض مرتبیان جو ہیں بڑے اعلیٰ رنگ میں اس کام کو سر انجام دیتے ہیں۔ میرے خطبے کے نوٹس بھی لیتے ہیں۔ پھر اپنے درسوں میں ، اپنی مجلسوں میں سارا ہفتہ کسی نہ کسی بات کو لے کر تلقین کرتے ہیں جس کا افراد جماعت پر بھی نیک اثر پڑتا ہے۔ کئی لوگ مجھے اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ درس سن کے ہمارے دینی علم میں اضافہ ہوا۔ فلاں عمل کو ہمیں صحیح