سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 86

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 54 دین کو دنیا پر مقدم رکھنا جماعت احمدیہ میں ایک فقرہ ہر مرد عورت چھوٹا بڑا جانتا ہے اور وہ ہے کہ میں ”دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 70 ) اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمیں اس طرف بہت توجہ دلائی ہے۔ خلفاء کی تقریروں میں عموما اور ہمارے مقررین کی بھی اکثر تقریروں تحریروں میں ، اس فقرے کا استعمال ہوتا ہے۔ شرائط بیعت کا بھی خلاصہ یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھا جائے گا۔ اسی طرح تمام ذیلی تنظیموں کے جو عہد ہیں ان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ اسی طرح بیعت کے الفاظ میں بھی ہم ان الفاظ میں دہراتے ہیں۔ غرض کہ یہ فقرہ ایک احمدی کا عہد ہے جس پر اس کی بیعت کا انحصار ہے۔ خلافت سے اور نظام سے جڑے رہنے کا انحصار ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ نظام سے جڑے رہنے کا، خلافت سے وابستگی کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ اور بیعت کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی باتیں صرف منہ کی باتیں رہ جاتی ہیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ : وئی بیعت میں تو اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس اگر کی سچائی اور وفاء عہد ظاہر نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پر واہ ہے۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 71 حاشیہ ) اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی کیفیت کو ڈھالے پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ اس فقرے سے واضح ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہیے ۔۔۔ مومن کا اصل کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی کیفیت کو ڈھالے۔ مقصود اس کا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اس میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنے دل کی کیفیت کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے تو اسی میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے اور یہی دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔ ہمارے ذمہ جیسا کہ میں