سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 87
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 55 نے کہا بہت بڑے کام لگائے گئے ہیں اور جان مال وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہم عہد بھی کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ہمیشہ سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ کس طریق سے ہم اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتیں اور استعدادیں بروئے کار لائیں۔ ۔۔۔ انصار اللہ کا اجتماع بھی آج سے ہو رہا ہے شوریٰ بھی ہو رہی ہے۔ ان کو بھی اپنی شوریٰ میں غور کرنا چاہیے اور ان دنوں میں اپنے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ کس حد تک ہم اپنے معیار دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے بڑھا سکتے ہیں۔ اور بڑھانے چاہئیں۔ بلکہ حاصل کرنے چاہئیں انصار اللہ کی عمر تو ایسی ہے جس میں ان کو نمونہ بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو ہماری کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اس کا احسان ہے، اس کی عطا ہے کہ ہمیں یہ کہہ کر کہ تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو تو میری رضا حاصل کرو گے ہمیں نوازا ہے ورنہ مال کی میں نے مثالیں دی ہیں اس کی خدا تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا یا کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔ یہ تمام وسائل، ذخائر ، سونا چاندی، زمینیں اس نے پیدا کی ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو دین کا کام کرنے والوں کو یہ سب کچھ بانٹ دیتا، خود مہیا کر سکتا تھا لیکن ہمیں وہ ہمارے مقاصد سے آگاہ فرما کر پھر اس کے حصول کے لئے قربانی کی طرف توجہ دلاتا ہے تاکہ ہم اس کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں۔ صرف مال ہی نہیں اس نے ہمیں اولاد بھی دی ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی تربیت کے اور طریقے بھی ایجاد فرما سکتا تھا لیکن اس نے ماں باپ کو کہا کہ ان بچوں کی تربیت کرو۔ ان پر اپنی حیثیت کے مطابق اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے خرچ کرو تا کہ یہ دین کے کام آسکیں۔ پس ایک احمدی ماں باپ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ دین کے کام آسکیں اور تبھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بات پوری ہوتی ہے ، عہد پورا ہوتا ہے۔ ان بچوں کی ایسی تربیت کرو کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ادراک انہیں بچپن سے حاصل ہو جائے۔ پس اللہ تعالیٰ یہ چیزیں ہمارے سپرد سپرد کر کے ہماری آزمائش بھی کرتا ہے اور ہمیں نواز تا بھی ہے۔