سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 82

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 50 خلیفہ وقت کی پیروی اور اطاع اطاعت اختیار کر لیں گے ۔ خلیفہ وقت کی طرف سے ملنے والی ہدایات اور حکموں پر عمل کریں گے اور ان کی توجیہیں اور تاویلات نکالنی بند کر دیں گے تو علم بھی اور عقل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے ثمر آور ہو گی اور پھل پھول لائے گی۔ خلیفہ وقت کے ہر لفظ کو قابل اطاعت سمجھ کر اس پر عمل کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تفسیر پر بنیاد رکھتے ہوئے جب ہم باقی آیات جو میں نے تلاوت کی تھیں ان کو بھی دیکھیں تو مزید معانی کھلتے ہیں کہ روحانی آسمان کی بلندیوں کو بھی انسان اُسی وقت چھو سکتا ہے جب اَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء: 60) کے مضمون کو سمجھیں اور جیسا کہ میں نے کہا عہدیداران اپنے آپ کو اولی الامر سمجھ کر اپنی اطاعت کروانے کے اس وقت تک حقدار نہیں کہلا سکتے جب تک خلافت کی کامل اطاعت اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے اور تاویلیں کرنے سے پر ہیز نہیں کرتے۔ بلکہ خلیفہ وقت کے ہر لفظ کو اپنے لئے قابل اطاعت سمجھ کر اس پر عمل کریں۔ رپورٹ کے لئے کوئی بات بھیجی جائے اس پر تحقیق کریں اور اطلاع دیں بعض دفعہ بعض معاملات تحقیق کے لئے جب بھیجے جائیں تو پہلی یہ کوشش ہوتی ہے کہ یہ پتا کرو کہ شکایت کس نے کی ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ بات سچ ہے یا غلط ہے۔ اگر تحقیق میں سچائی ہے تو اس کے لئے مداوا ہونا چاہیے اس کا حل ہونا چاہیے اور جو بھی کمی چاہیے ہونا اور جو ہے اس کو پورا ہونا چاہیے اور غلط ہے تو پھر رپورٹ دے دی جائے کہ غلط ہے کسی نے یو نہی بات کر دی۔ تحقیق بعد میں کی جاتی ہے، پہلے اس شخص کا پتا کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون ہے وہ یا کون نہیں ہے۔ اس سے کسی عہدیدار کو غرض نہیں ہونی چاہیے کہ کس نے شکایت کی ہے کس نے اطلاع دی ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ جو رپورٹ بھیجی جائے، رپورٹ کے لئے کوئی بات بھیجی جائے اس پر تحقیق کریں اور اطلاع دیں۔ جہاں خلیفہ وقت کے کسی حکم کی واضح طور پر سمجھ نہ آئے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا