سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 81

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 49 عمل صالح کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، توحید کو قائم رکھنے والے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں۔ ہمارا مقصد توحید کا جھنڈا لہرانا ہے پس ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خلافت میں کبھی دنیاوی مقاصد ہو سکتے ہیں یا خلافت کا مقصد بھی دنیاوی مقاصد کی طرح ہے یا دنیا داروں کی طرح ہے۔ دنیاوی مقاصد حاصل کرنے والوں کا روحانیت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ تو تمام دنیاوی ساز و سامان کے ساتھ بھی بسا اوقات کامیاب نہیں ہوتے۔ ان کے دنیاوی مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ کامیابی تو وہی ہے ناں جو آخری فتح مل جائے۔ وہ ان کو حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں اور تقویٰ پر چلنے والوں کا مقصد دنیاوی ہار جیت نہیں ہے بلکہ کامل اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور تقویٰ میں بڑھنا ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنا ہے۔ کوئی ذاتی نفع رسانی نہیں ہے۔ توحید کا جھنڈا لہرانا ہے۔ ہم نے دنیا کے دل جیت کر دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ اسی مقصد کے لئے ہمارے تبلیغی پروگرام ہیں اور دوسرے پروگرام ہیں۔ اس کے حصول کے لئے ہماری دعاؤں کی طرف توجہ ہے اور ہونی چاہیے۔ اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت ہے کیا؟ پس خلافت تو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت ہے کیا ؟ اور یہ بات اسی وقت سمجھ آئے گی جب کامل اطاعت پر یقین پیدا ہو گا۔ کوئی جتنا جتنا بھی اپنے آپ کو عالم مدبر یا مقرر سمجھتا ہے، اگر اطاعت نہیں ہے تو نہ ہی جماعت احمد یہ میں اس کی کوئی جگہ ہے، نہ اس کا یہ علم اور عقل دنیا کو کوئی روحانی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام کو اپنا شعار بنادے۔ پس جب مکمل طور پر