سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 80

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 48 آج ہم دیکھتے ہیں دوسرے مسلمان بیشک قرآن و سنت کو ماننے اور عمل کا دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا لیکن ہمیں ان میں صبر اور برداشت نظر نہیں آتی۔ سوائے اسلام کو بد نام کرنے کے اور کیا کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔ پس یہ آج صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ صبر اور برداشت کے ایسے نمونے قائم کر رہے ہیں جو قابل رشک ہیں۔ تکلیفوں کو برداشت کرنے کے ایسے نمونے دکھا رہے ہیں جو کہ دورِ اول کے مسلمانوں میں نظر آتے ہیں۔ اور وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة :4) کا مضمون اس زمانے کے لئے واضح ہو جاتا ہے۔ اعمال کو اور اپنی عبادتوں کو وہ رنگ ہمیں دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے بہترین زاد راہ ثابت ہوں پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اونٹ سفر کے لئے پانی جمع رکھتا ہے۔ اس بات سے غافل نہیں ہوتا کہ میں نے ضرورت کے وقت پانی کی کمی کو کس طرح پورا کرنا ہے۔ پانی جمع رکھتا ہے تا کہ ضرورت کے وقت وہ پانی کام آئے۔ آپ نے فرمایا کہ مومن کو بھی ہر وقت سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہیے۔ اور یہ تیاری اور احتیاط کس طرح ہو گی ؟ یہ زادِ راہ کے ساتھ ہے۔ زادِ راہ رکھنے سے ہو گی۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا مومن بھی اس دنیا میں مسافر کی طرح ہے اور بہترین زادِ راہ مومن کے لئے تقویٰ ہے ۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 134) اعمال کو اور اپنی عبادتوں کو وہ رنگ ہمیں دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے بہترین زادِ راہ ثابت ہوں۔ اس زمانے کے امام کو مان کر روحانی پانی ہمیں میسر آگیا۔ اس کو سنبھالنا اور اس سے فائدہ اٹھانا اب ہمارا کام ہے۔ پس اس حقیقت کو بھی ہر احمدی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ جو کامل اطاعت کے ساتھ امام وقت کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں اور یہی باتیں ہیں جو پھر خلافت کے انعام سے بھی فیض پانے والا بناتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خلافت کے فیض سے فیض پانے والے وہی بتائے ہیں جو