سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 77
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 45 کے فیصلے اور عمل اور سنت بھی تمہارے لئے قابل اطاعت ہیں۔ ان پر چلو۔(سنن ابی داؤد کتاب السنة باب في لزوم السنة حديث (4607) عہد بیعت پورا کرنے کیلئے اطاعت انتہائی اہم ہے پس یہ ثابت کرنے کے لئے کہ فیصلے غلط ہیں پہلے بہت کچھ سوچنا ہو گا۔ جماعت میں رہتے ہوئے اگر کوئی بات کرنی ہے تو پھر ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے خلیفہ وقت کو لکھنا ہو گا۔ لکھنے کی اجازت ہے۔ اِدھر اُدھر باتیں کرنے کی اجازت نہیں۔ یہاں سے وہاں بیٹھ کر غلط قسم کی افواہیں پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔ تاکہ اگر سمجھنے والے کی سمجھ میں غلطی ہے تو خلیفہ وقت اس کو دور کر سکے اور اگر سمجھے کہ اس غلطی کو جماعت کے سامنے بھی رکھنے کی ضرورت ہے تو تمام جماعت کو بتائے۔ جماعت جب بڑھتی ہے تو منافقین بھی اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔ حاسدین بھی اپنا کام کرتے ہیں۔ خلافت سے سچی وفا یہ ہے کہ ان کے منصوبوں کو ہر سطح پر ناکام بنائیں اور خلافت سے جو بعض بدظنیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک واقعہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک واقعہ ہے جو قرآن کریم کا ترجمہ انگلش میں کرنے کے لئے لندن آ رہے تھے تو بمبئی سے غالباً ان کی روانگی تھی۔ وہاں پہنچے تو جمعہ کا دن آگیا۔ جماعت نے درخواست کی کہ آج جمعہ ہے ۔ آپ جمعہ پڑھائیں۔ قادیان سے آئے ہیں۔ بزرگ ہیں۔ صحابی ہیں۔ ہم بھی آپ سے کوئی فیض پالیں۔ نہ جماعت والے آپ کو جانتے تھے ، نہ کبھی دیکھا تھا، نہ آپ کسی کو جانتے تھے۔ آپ نے خطبہ دیا کہ دیکھو تم مجھے جانتے نہیں ہو۔ بعضوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہوا۔ تم نے مجھے جمعہ کے لئے کھڑا کر دیا۔ آج اپنا امام بنا دیا۔ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اگر امام نماز پڑھاتے ہوئے کوئی غلطی کرے تو تم نے سبحان اللہ کہہ دینا ہے۔ اگر امام اس سبحان اللہ پر اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے۔ اگر وہ اصلاح نہیں کرتا، اسی طرح اپنے عمل جاری رکھتا ہے تو تمہارا کام کامل اطاعت کرتے ہوئے اس کے ساتھ