سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 78

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 46 اٹھنا اور بیٹھنا ہے۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا ہے کہ تم اپنے طور پر نماز پڑھنی شروع کر دو۔ اسی طرح تم نے بیٹھنا ہے اسی طرح اٹھنا ہے اسی طرح جھکنا ہے۔ پس آگے انہوں نے فرمایا کہ جب عارضی امامت میں اطاعت کا یہ معیار ہے اس کی اتنی پابندی ہے تو خلیفہ وقت کی بیعت میں آکر جو تم عہد کرتے ہو اور خوشی سے عہد کر کے خود شامل ہوتے ہو، اس میں کس قدر اطاعت ضروری ہے۔ جبکہ تم نے خود سوچ سمجھ کر یہ بیعت کی ہے۔ پس یاد رکھیں عہد بیعت پورا کرنے کے لئے اطاعت انتہائی اہم ہے۔ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔ مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ۔ نا ہے بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے“۔ بڑے بڑے توحید کا دعویٰ کرنے والے جو ہیں وہ بھی اطاعت سے بعض دفعہ باہر نکل جاتے ہیں بت بنا بیٹھتے ہیں۔ فرمایا: کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے“۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو ستر ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔“ (تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 246-247 تفسیر سورۃ النساء زیر آیت 59۔ الحکم جلد 5 نمبر 5 مؤرخہ 10 فروری 1901ء صفحہ 1 کالم 2-3)