سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 76

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 44 میں نے ایک خاکہ کھینچا ہے بے شمار کاموں کا جو خلیفہ وقت کے سپر د خدا تعالیٰ نے کئے ہیں اور انہیں اس نے کرنا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں میں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔ یہ میں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔ یہ میرا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر میں فرض ادا کرنے والا بنوں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ خلافت اور دنیاوی لیڈروں کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ویسے ہی غلط ہے۔ بعض دفعہ دنیاوی لیڈروں سے باتوں میں جب میں صرف ان کو روزانہ کی ڈاک کا ہی ذکر کرتا ہوں کہ اتنے خطوط میں دیکھتا ہوں لوگوں کے ذاتی بھی اور دفتری بھی تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ پس کسی موازنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو بعض لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کر دوں گو کہ پہلے بھی میں شرائط بیعت کے خطبات کے ضمن میں اس کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں کہ ہر احمدی خلیفہ وقت سے اس کے معروف فیصلہ پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ معروف کی تعریف انہوں نے خود کرنی ہے۔ ان پر واضح ہو کہ معروف کی تعریف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے۔ یہ پہلے ہی تعریف ہو چکی ہے۔ معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو۔ جس خلافت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہونا ہے، اس طریق کے مطابق چلنا ہے جو نبوت قائم کر چکی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق یہ دائمی بھی ہے جو آپ کے کام کو آگے چلانے کے لئے ہے ، وہ قرآ قرآن و سنت کے منافی یا خلاف کوئی کام کر ہی نہیں سکتی اور یہی معروف ہے۔ معروف سے یہاں یہ مراد ہے۔ پس اطاعت کے بغیر دوسروں کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ یا پھر قرآن و سنت سے جو اختلاف کرنے والے ہیں یہ ثابت کریں کہ خلیفہ وقت کا فلاں فیصلہ یا فلاں کام قرآن و سنت کے منافی ہے۔ یہاں یہ بھی بتادوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا ہے کہ خلفاء راشدین