سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 75
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 43 بھی خلافت کا کام ہے۔ توحید کے قیام کے لئے بھر پور کوشش یہ بھی خلافت کا کام ہے۔ جبکہ دنیاوی لیڈروں کے تو دنیاوی مقاصد ہیں۔ ان کا کام تو اپنی دنیاوی حکومتوں کی سرحدوں کو بڑھانا ہے۔ اسی کی ان کو فکر پڑی رہتی ہے۔ ان کا کام تو سب کو اپنے زیر نگیں کرنا ہے۔ دنیا میں آپ دیکھیں اپنے ملکوں کی حدوں سے باہر نکل کر بھی دوسرے ملکوں کی آزادیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چاہے وہ ڈکٹیٹر ہوں یا سیاسی حکومتیں ہوں۔ دنیاوی لوگوں کا تو یہ کام ہے۔ ان کا کام تو جھوٹی اناؤں اور عزتوں کے لئے انصاف کی دھجیاں اڑانا ہے جو ہمیں مسلمان دنیا میں بھی اور باقی دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔ خلافت اور دنیاوی لیڈروں کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا کون ساڈکٹیٹر ہے جو اپنے ملک کی رعایا سے ذاتی تعلق بھی رکھتا ہو ۔ خلیفہ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے۔ ان کے ذاتی خطوط آتے ہیں جن میں ان کے ذاتی معاملات کا ذکر ہوتا ہے۔ ان روزانہ کے خطوط کو ہی اگر دیکھیں تو دنیا والوں کے لئے یہ ایک نا قابلِ یقین بات ہے۔ یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے۔ ان کے لئے خلیفہ وقت دعا کرتا ہے۔ کون سا دنیاوی لیڈ رہے جو بیماروں کے لئے دعائیں بھی کرتا ہو۔ کون سالیڈ ر ہے جو اپنی قوم کی بچیوں کے رشتوں کے لئے بے چین اور ان کے لئے دعا کرتا ہو۔ کون سا لیڈر ہے ہے جس کو بچوں کی تعلیم کی فکر ہو۔ حکومت بیشک تعلیمی ادارے بھی کھولتی ہے۔ صحت کے ادارے بھی کھولتی ہے۔ تعلیم تو مہیا کرتی ہے لیکن بچوں کی تعلیم جو اس دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی فکر صرف آج خلیفہ وقت کو ہے۔ جماعت احمد یہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ ان کی صحت کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے۔ رشتے کے مسائل ہیں۔ غرض کہ کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی ایسا نہیں جس پر خلیفہ وقت کی نظر نہ ہو اور اس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔ اس سے دعائیں نہ مانگتا ہو۔ میں بھی اور میرے سے پہلے خلفاء بھی یہی کچھ کرتے رہے۔