سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 74
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 42 کامل اطاعت شاید نقصان دہ ہے اور ایسے لوگوں کی یہ سوچ شاید اس لئے ہے جو کامل اطاعت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کہ یہاں جرمنی میں ہٹلر نے اپنا ہر حکم منوایا اور ڈکٹیٹر بن کر رہا اس لئے دوسری جنگ عظیم میں یہ تصور ہے، یہ تاثر ہے کہ اس وجہ سے ہماری یعنی جرمنی کی شکست بھی ہوئی۔ ان کو نقصان اٹھانا پڑی، سبکی اٹھانی پڑی۔ میں یہاں ہر احمدی اور ہر نئے آنے والے اور ہر نوجوان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امامت اور خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں بڑا فرق ہے۔ خلافت زمانے کے امام کو ماننے کے بعد قائم ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قائم ہوئی ہے اور ہر ماننے والا یہ عہد کرتا ہے کہ ہم خلافت کے نظام کو جاری رکھیں گے۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ جب اپنی خوشی سے دین کو مان لیا تو پھر دین کے قیام کے لئے اس عہد کو نبھانا بھی ضروری ہے جو خلافت کے قیام کے لئے ایک احمدی کرتا ہے اور جو قومی یکجہتی کے لئے وحدت کے لئے ضروری ہے۔ خلافت کی اطاعت کے عہد کو اس لئے نبھانا ہے کہ ایک امام کی سرکردگی میں خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا کے دلوں میں بٹھانے کی مشترکہ کوشش کرنی ہے۔ دوسرے مسلمان جو ہیں وہ بغیر امام کے ہیں اور جماعت احمدیہ کی کوششیں جو ہیں وہ خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں۔ یہ سب کوششیں جو خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں ان کی کامیابی کے نتائج بتارہے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ (حقیقی تعلیم دوسرے مسلمانوں کے پاس بھی ہے لیکن اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ) ان نتائج کا حصول، کامیابی کا حصول خلافت کی لڑی میں پروئے جانے کی وجہ سے ہے۔ خلافت کا مقصد حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھر پور توجہ دینا ہے پھر خلافت کا مقصد حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھر پور توجہ دینا ہے۔ ان حقوق کو منوانا اور قائم کرنا اور مشترکہ کوشش سے ان کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہے۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے افراد جماعت میں یہ روح پیدا کرنا ہے۔ ان کو توجہ دلانا ہے کہ دین بہر حال دنیا سے مقدم رہنا چاہیے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔ اس میں تمہاری نسلوں کی بقا ہے۔ یہ ایک روح پھونکنا