سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 73
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 41 مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض معاملات میں اپنی رائے رکھتا ہوں اور اپنی طرف سے دلیل کے ساتھ خلیفۃ المسیح کو اپنی رائے پیش کرتا ہوں لیکن اگر میری رائے رڈ ہو جائے تو کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا کہ کیوں یہ رڈ ہوتی ہے یا میری رائے کیا تھی۔ پھر میری رائے وہی بن جاتی ہے جو خلیفہ وقت کی رائے ہے۔ پھر کامل اطاعت کے ساتھ اس حکم کی بجا آوری پر میں لگ جاتا ہوں جو خلیفہ وقت نے حکم دیا تھا۔ (ماخوذ از حیات بشیر مؤلفه شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر کل صفحہ 322-323 مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ ) غشال کی طرح اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : غسال کی طرح اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دو۔ جس طرح مردہ اپنے آپ کو ادھر ادھر نہیں کر سکتا، حرکت نہیں کر سکتا، اس کو نہلانے والا اس کو حرکت دے رہا ہوتا ہے۔ (ماخوذ از خطبات نور صفحه 131 مطبوعہ ربوہ) اسی طرح کامل اطاعت کرنے والے کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دے دے اور جب یہ معیار ہو گا تو تبھی عہد بیعت نبھانے والے بن سکیں گے۔ تبھی اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے ۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو جس نے بیعت کا عہد کیا ہے نہ صرف یہ سوچ پیدا کرنی ہو گی بلکہ اپنے عمل سے اس کا ثبوت دینا ہو گا۔ اپنے نمونے نئے آنے والوں کے لئے بھی اور اپنی اولادوں کے لئے بھی قائم کرنے ہوں گے ۔ نوجوانوں کو بھی اپنے نمونے بڑوں کو دکھانے کی ضرورت ہے ، یعنی بڑے اپنے نمونے قائم کریں جو ان کے بچے اور نوجوان دیکھیں اور سیکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ معیار اوپر سے لے کر نیچے تک ہر عہدیدار کو دکھانا ہو گا، قائم کرنا ہو گا۔ امامت اور خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں بڑا فرق ہے یہاں بعض ذہنوں میں کبھی کبھی یہ سوال اٹھتا ہے۔ اگر وہ باتیں صحیح ہیں۔ میں سوال کی بات کر رہا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اگر یہ باتیں صحیح ہیں کہ یہ سوال اٹھانے والے اٹھاتے ہیں کہ