سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 72

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 40 توجہ کریں گے اور ہر سطح پر اطاعت کے نمونے ہمیں نظر آئیں گے۔ ہمیں اونٹوں کی قطار کی پیروی کرتے ہوئے سب نظر آئیں گے۔ ایک رخ پر چلتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ امام کے قدم سے قدم ملاتے ہوئے چلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ پس امیر بھی، صدر بھی اور دوسرے عہدیدار بھی پہلے اپنے جائزے لیں کہ کیا ان کی اطاعت کے معیار ایسے ہیں کہ ہر حکم جو خلیفہ وقت کی طرف سے آتا ہے اس کی بلا چون و چرا تعمیل کرتے ہیں یا اس میں تاویلیں نکالنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اگر تاویلیں نکالتے ہیں تو یہ اطاعت نہیں۔ روایات میں ایک واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا آتا ہے۔ جب گلی میں چلتے ہوئے آپ کے ایک صحابی عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیٹھ جاؤ کی آواز سنی اور بیٹھ گئے۔ آواز سن کر یہ نہیں کہا کہ یہ حکم تو اندر مسجد والوں کے لئے ہے بلکہ آواز سنی اور بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے مشکل سے قدم قدم مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ آپ کو کیا ہوا ہے جو اس طرح گھسٹ رہے ہیں۔ آپ نے یہی جواب دیا کہ اندر سے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔ پوچھنے والے نے کہا کہ یہ حکم تو اندر والوں کے لئے تھا۔ آپ نے جواب دیا مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ اندر والوں کے لئے ہے یا باہر والوں کے لئے یا سب کے لئے۔ میرے کان میں اللہ کے رسول کی آواز پڑی اور میں نے اطاعت کی۔ پس یہی میرا مقصد ہے۔ (ماخوذ از سنن ابي داؤد كتاب الجمعة باب الامام يكلم الرجل في خطبته 1091 حديث اطاعت وہی ہے جو فوری طور پر کی جائے پس یہ معیار ہیں اطاعت کے جو ہمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض عہدیدار خلیفہ وقت سے جو کوئی ہدایت آتی ہے تو اس پر عمل بھی کر لیتے ہیں لیکن بڑے انقباض سے ، نہ چاہتے ہوئے یہ عمل کرتے ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوئے عمل کرنا کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت وہی ہے جو فوری طور پر کی جائے۔ اپنی رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ لیکن جب کسی معاملے میں خلیفہ وقت کا فیصلہ آجائے کہ یوں کرنا ہے تو پھر اپنی رائے کو یکسر بھلا دینا ضروری ہے۔ حضرت