سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 71
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 39 اطاعت کے مضمون کو سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہر سطح کے عہدیداروں کو ہے اطاعت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَلى اَمِيْرِي فَقَدْ عَصَانِي (مسند ابی داؤد الطيالسى جلد دوم صفحه 736 حدیث 2554 مطبوعہ دار الکتب العلمية بيروت 2004ء ) اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت امیر کے بارے میں اور بھی بہت سے ارشادات ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اطاعت اور فرمانبرداری کے حکم دیئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہی ایک راز ہے جو جماعتی ترقی کے لئے جاننا ضروری ہے۔ ہر اس شخص کے لئے۔ لئے جاننا ضروری ہے جو جماعت سے ۔ منسہ منسلک ہے۔ پس اس بات کو سمجھنے کی افراد جماعت کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر آجکل کے دور میں جبکہ آزادی کے نام پر ان غلط خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ کیوں ہم پابندیاں کریں؟ کیوں ہمارے پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں ؟ کیوں ہمیں بعض معاملات میں آزادی نہیں؟ ایک احمدی مسلمان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے ہر جائز آزادی اپنے ماننے والوں کو دی ہے اور جتنی آزادیاں اسلام میں ہیں شاید ہی کسی دوسرے مذہب میں ہوں بلکہ اس کے مقابلے میں نہیں ہیں لیکن بعض حدود جو قائم کی ہیں وہ انسان کے اپنے اخلاق کی درستی کے لئے، روحانی ترقی کے لئے اور جماعتی یکجہتی کے لئے اور جماعتی ترقی کے لئے قائم کی گئی ہیں اور ان کے اندر رہنا ضروری ہے۔ یہاں میں عہدیداروں کو بھی کہوں گا کہ اگر جماعتی ترقی میں ممد و معاون بننا ہے اور عہدے صرف بڑائی کی خاطر نہیں لئے گئے۔ اپنے اظہار کی خاطر نہیں لئے گئے۔ اپنی انا کی تسکین کی خاطر نہیں لئے گئے تو اطاعت کے مضمون کو سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہر سطح کے عہدیداروں کو ہے۔ اگر عہدیدار اس مضمون کو سمجھ جائیں تو افراد جماعت خود بخود اس کی طرف