سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 68

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 36 برکت ووٹوں کی وجہ سے نہیں بلکہ مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع اور خلیفہ وقت کی دعائیں حاصل کرنے سے ملتی ہے مکرم محمود احمد صاحب شاہد سابق صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی وفات پر ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ” جب یہ صدر بنے، (یہ بھی انہوں نے اپنے داماد کو خود نوٹ کروایا،) تو کہتے ہیں 1979ء میں خدام الاحمدیہ کی شوریٰ میں صدر کا انتخاب ہوا۔ ووٹ کے لحاظ سے وہ پانچویں پوزیشن میں تھے۔ انتخاب کے بعد نماز فجر کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بلا کے فرمایا کہ کثرت سے استغفار کرو اور درود پڑھو۔ اور اگلے روز یا اس دن شام کو حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ان کی بطور صدر منظوری عطا فرمائی۔ پانچویں نمبر پر تھے ووٹوں کے لحاظ سے۔ ان کے جامعہ کے ساتھی انعام الحق کو ثر صاحب جو آجکل امریکہ میں مبلغ سلسلہ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جامعہ کے ناصر ہوسٹل میں آپ سے دوستی ہوئی۔ آپ ہوسٹل کے زعیم تھے اور انعام صاحب معتمد تھے۔ کہتے ہیں کہ میس (کمیٹی) کے ممبر اور پھر صدر بنے۔ جامعہ میں نائب الرئیس الجامعہ منتخب ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے انہیں صدر منتخب کیا اور اس کا اعلان ہوا تو انعام صاحب کہتے ہیں کہ میں محمود صاحب کے پاس ہی کھڑا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان کو گلے ملنا چاہا۔ کہنے لگے پرے ہٹو۔ اور اپنی مخصوص زبان جس میں بنگالی اردو بھی ملی ہوئی تھی، پوچھنے لگے کیا میرا نام کا اعلان ہوا ہے تو میں نے کہا ہاں۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ خوشی کی بجائے صدمے کی حالت تھی۔ مگر پھر جلد سنبھل گئے اور کہتے ہیں پھر میں نے ان کو گلے لگایا۔ خالد سیف اللہ صاحب جو ان کے بعد اب اس وقت قائمقام امیر جماعت آسٹریلیا ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر محمود بنگالی صاحب نے یہی صدر بننے کا قصہ خود انہیں بتایا کہ 1979ء میں جب انٹر نیشنل صدر خدام الاحمدیہ کا انتخاب ہوا تو آپ ووٹوں کی گنتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت شفقت فرماتے