سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 69

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 37 تھے۔ حضور نے آپ کو بلا کر فرمایا کہ آج شام تک کثرت سے استغفار کرو۔ کہتے ہیں کہ میں بہت ڈرا کہ پتا نہیں مجھ سے کیا غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ جب حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود صدر مقرر فرما دیا تو مجھے سمجھ آئی کہ حضور اس طریق سے مجھے عاجزی کی طرف متوجہ فرمارہے تھے۔ یہ ان سب عہدے داروں کے لئے بھی سبق ہے جو جب منتخب ہوتے ہیں تو (انہیں) استغفار اور درود بہت زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ عاجزی ہمیشہ قائم رہے اور خدمت کی توفیق اللہ تعالیٰ صحیح رنگ میں عطا فرما تا رہے۔ محمود مجیب صاحب انجینئر جو ہیں وہ بھی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ محمود بنگالی صاحب بڑے ہی فدائی اور خلافت کے شیدائی احمدی تھے۔ خلیفۃ المسیح الثالث نے غالباً ( ان کو سن تو یاد نہیں۔ غالباً لکھا ہوا ہے اور شاید ٹھیک ہی لکھا ہوا ہے کہ ) 80ء یا 81ء میں سارے صدران شمار کروائے جو 1960ء سے اس وقت تک پہلے گزر چکے تھے اور اس کے بعد پھر محمود بنگالی صاحب کی تعریف فرمائی کہ اطاعت میں اور دعائیں لینے میں یہ سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ اور پھر وہاں خليفة المسح الثالث نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں نے ان کو پانچویں نمبر سے اٹھا کے جو صدر بنایا تھا تو جماعت کو ایک سبق دینا چاہتا تھا کہ خلافت کا جو انتخاب ہے وہی بہتر ہوتا ہے۔ برکت اسی کو ملے جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے کیونکہ ساری برکتیں اسی نظام سے وابستہ ہیں ۔۔ 1981ء کا یہ واقعہ ہے۔ خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھا۔ اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے جو اپنے الفاظ ہیں جس میں آپ نے ان کو ، ان کی خدمات کو سراہا۔ فرمایا کہ ”برکت اسی کو ملے جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے کیونکہ ساری برکتیں اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ اس کے سوا کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا مر تبہ حاصل نہیں کر سکتی“۔ پھر فرمایا کہ ” پچھلے سال خدام الاحمدیہ کے صدر کا جو انتخاب ہوا اس میں ووٹوں کے لحاظ سے محمود احمد صاحب ۔۔۔۔۔ پانچویں نمبر پر تھے اور میں یہ سبق جماعت کو دینا چاہتا تھا کہ جن چار کو ووٹ زیادہ ملے